ایک نئی تحقیق کے مطابق جنگلی جانوروں کے طرزِ عمل اور حرکت کو ٹریک کرنے سے یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ انسان آئندہ پیدا ہونے والی عالمی وباؤں کو وقت سے پہلے بھانپ سکے اور ان کا پھیلاؤ روکا جا سکے۔
اسرائیل کی ایک یونیورسٹی میں ہونے والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ جانور اکثر ان خطرناک پیتھوجنز (جراثیم) کے پہلے متاثرین ہوتے ہیں جو بعد میں انسانوں میں منتقل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے اگر جانوروں کی عادات و حرکت میں غیر معمولی تبدیلی کو بروقت نوٹ کیا جائے تو یہ ایک طرح کا “ابتدائی وارننگ سسٹم” ثابت ہو سکتا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ چند دہائیوں میں سامنے آنے والی 70 فیصد نئی بیماریاں جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوئی ہیں۔ کووڈ-19 وبا کی مثال سب کے سامنے ہے، جس نے دنیا بھر کی معیشت اور انسانی جانوں پر شدید اثر ڈالا۔
اس نئی تحقیق میں جی پی ایس کالرز، سیٹلائٹ امیجنگ اور جدید بایو سینسرز کے ذریعے جانوروں کی نقل و حرکت، سماجی تعلقات، خوراک کے ذرائع اور رہائش گاہوں میں تبدیلی کا مشاہدہ کیا گیا۔
ان کے مطابق اگر جانور اچانک اپنی رہائش گاہ بدلیں، نقل و حرکت میں غیر متوقع رجحان دکھائیں، یا خوراک اور پانی کی تلاش میں مختلف رویے اختیار کریں تو یہ اس بات کی علامت ہو سکتا ہے کہ ماحول میں کوئی بیماری جنم لے رہی ہے۔
تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جنگلی جانوروں کے طرزِ عمل پر مسلسل نگرانی سے انسانی برادری کو مہلک وباؤں کے پھیلنے سے پہلے خبردار کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح دنیا بروقت اقدامات کر کے لاکھوں جانوں اور اربوں ڈالر کے معاشی نقصانات سے بچ سکتی ہے۔