جڑانوالہ میں مسیحی برادری کے گھروں اور چرچوں کو جلانے کے واقعے کے خلاف سپریم کورٹ میں متفرق درخواست دائر کی گئی ہے۔
یہ درخواست اقلیتی رہنما سیموئل پیارے نے دائر کی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت جے آئی ٹی رپورٹ پر عملدرآمد کا حکم دے اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق کیس رواں ماہ مقرر کیا جائے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 16 اگست 2023 کو جڑانوالہ میں ہونے والے واقعے میں 146 گھر اور 26 چرچ نذرِ آتش کیے گئے تھے۔ اس وقت کے نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی نے متاثرہ علاقے کا دورہ بھی کیا تھا۔
مزید کہا گیا کہ پنجاب حکومت نے متاثرہ خاندانوں کو 20،20 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا تھا مگر اب تک صرف 82 گھروں کو ہی ادائیگی کی گئی ہے۔
درخواست گزار نے الزام لگایا کہ جڑانوالہ میں آج بھی مسیحی خاندانوں کو دھمکی آمیز پرچیاں بھیجی جا رہی ہیں۔
درخواست میں عدالتِ عظمیٰ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ کیس جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے اور حکومت کو باقی متاثرہ خاندانوں کو بھی فوری طور پر معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا جائے۔