شنگھائی: صدر آصف علی زرداری نے شنگھائی میں پاکستان اور چین کے درمیان مفاہمت کی تین یاد داشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی۔ تقریب میں خاتون اول بی بی آصفہ بھٹو، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، صوبائی وزراء شرجیل انعام میمن اور سید ناصر حسین شاہ کے علاوہ پاکستان کے چین میں سفیر بھی شریک تھے۔
ایم او یوز کا مقصد پاکستان میں زراعت، ماحولیات اور ماس ٹرانزٹ کے شعبوں کو ترقی دینا ہے۔
پہلے ایم او یو کے تحت “کنٹرولڈ ایگریکلچر سائنس اینڈ ایجوکیشن پارک” قائم کیا جائے گا، جس سے زرعی پیداوار میں اضافہ اور خوراک کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔ دوسرا ایم او یو شینونگ کالج کے تعاون سے کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور تربیت فراہم کرنے کے لیے ایک ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ کے قیام سے متعلق ہے۔
تیسرے ایم او یو کے تحت “ٹائر ری سائیکلنگ پروجیکٹ” شروع کیا جائے گا، جس کا مقصد ماحول دوست طریقوں سے فاضل مادہ کو منظم کرنا ہے۔
صدر زرداری نے اس موقع پر کہا کہ یہ معاہدے پاک چین زرعی، تکنیکی اور ماحولیاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی عملی کوشش ہیں۔
سمجھ سے بالاتر ہے کہ ان ایم او یوز کے لئے صدر مملکت کو اپنے خاندان کے ساتھ چین کے دورے کی کیا خصوصی ضرورت تھی؟ متعلقہ شعبوں یا وزارتوں کا کوئ نمائندہ ان کے وفد میں شامل نہیں تھا۔