فرانس میں جین زی کا احتجاج، 400 سے زائد تعلیمی ادارے بند

فرخ تنویرملک

پیرس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرانس میں تعلیمی مسائل کے خلاف طلبہ کے احتجاج کے بعض مقامات پر پرتشدد ہونے کے بعد تقریبا 400 اسکول اور دیگر تعلیمی ادارے بند رہے ۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس کے وزیر تعلیم ایڈورڈ گیفرے نے فرانس 2 ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے علم میں 400 سے کچھ زیادہ اسکول اور تعلیمی ادارے ایسے ہیں جو جمعے کو بند رہیں گے۔فرانسیسی وزیراعظم سباستیاں لیکورنو کے قریبی ذرائع کے مطابق انٹیلی جنس اداروں نے جمعرات کو ایک ہنگامی اجلاس میں بتایا کہ احتجاجی تحریک کا آغاز بائیں بازو کی سخت گیر جماعتوں کے سیاست دانوں نے کیا، جن میں لا فرانس انسومیز (ایل ایف آئی) کے ارکان بھی شامل ہیں۔تاہم ایل ایف آئی کے رکن پارلیمنٹ لوئی بوئار نے فرانسیسی نشریاتی اداروں سے گفتگو میں اس دعوے کی تردید کی ہے۔اساتذہ کی کمی اور اسکولوں کی خستہ حال عمارتوں کے خلاف احتجاج گزشتہ ماہ پیرس کے علاقے میں شروع ہوا تھا، جو بعد ازاں ملک کے دیگر حصوں تک پھیل گیا۔احتجاج کے دوران درجنوں افراد زخمی ہوئے جبکہ پولیس نے سیکڑوں افراد کو گرفتار کیا۔حکام کے مطابق جمعرات کو طلبہ نے کم از کم 2 ہائی اسکولوں میں آگ لگا دی، جبکہ جنوبی شہر مارسی میں ایک تیسرے اسکول میں اساتذہ پر غیر ارادی طور پر پٹرول کے چھینٹے پڑے۔مشرقی شہر اسٹراسبرگ میں کم از کم ایک گاڑی کو آگ لگا دی گئی، جبکہ جنوب مغربی شہر تولوز میں پولیس کی انسدادِ ہنگامہ آرائی فورسز اور نوجوانوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ادھر بھارت میں بھی جین زی دارالحکومت نئی دہلی کے جنتر منتر پر اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کر رہے ہیں۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x