اسلام آباد ۔۔۔۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات، فصلوں اور لائیو اسٹاک کو پہنچنے والے خسارے اور متاثرہ انفراسٹرکچر کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب میں ہدایت کی کہ تمام صوبے اور متعلقہ ادارے سیلابی نقصانات کا جامع اور حقیقت پسندانہ تخمینہ لگائیں تاکہ متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے واضح اور مؤثر حکمت عملی مرتب کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ نقصانات کے تخمینے میں انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ زرعی شعبے اور مال مویشی کے نقصان کو بھی شامل کیا جائے۔
وزیراعظم نے سپارکو کو سیٹلائٹ اسسمنٹ کے ذریعے نقصانات کا اندازہ لگانے میں معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کے بعد فصلوں کو بیماریوں سے بچانے کے فوری اقدامات کیے جائیں اور متاثرہ علاقوں میں موزوں فصلوں کی دوبارہ کاشت کے لیے خصوصی منصوبہ بندی کی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ذرائع مواصلات کی بحالی اور متاثرہ سڑکوں کی مرمت کو اولین ترجیح دی جائے۔
اجلاس میں این ڈی ایم اے اور دیگر اداروں کی جانب سے وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ گنے، کپاس اور چاول کی فصلوں کے نقصانات کے تخمینے پر کام جاری ہے جو آئندہ دس سے پندرہ دنوں میں مکمل کر لیا جائے گا۔
وزیراعظم نے اس موقع پر صوبائی حکومتوں کے بروقت اور مؤثر اقدامات کو سراہا اور تمام وفاقی و صوبائی اداروں کو ہدایت کی کہ وہ باہمی ہم آہنگی اور تعاون کے ساتھ بحالی کے کام آگے بڑھائیں۔