اسلام آباد: (24 ستمبر 2025) ورلڈ بینک نے اپنی تازہ ترین رپورٹ “Reclaiming Momentum Towards Prosperity” میں خبردار کیا ہے کہ پاکستان کا موجودہ معاشی ماڈل غربت کم کرنے کے بجائے عدم مساوات بڑھا رہا ہے اور آمدنی کو جمود کا شکار کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ملک میں غربت 8 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، 25.3 فیصد پاکستانی سرکاری غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ 44.7 فیصد بین الاقوامی معیار کے مطابق غربت میں شمار ہوتے ہیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ 42.7 فیصد “ابھرتی ہوئی مڈل کلاس” بنیادی سہولتوں جیسے صاف پانی، نکاسی، توانائی اور رہائش تک رسائی سے محروم ہے۔ عوام کو پبلک سروسز کی ناقص فراہمی اور روزگار کے محدود مواقع خاص طور پر خواتین اور نوجوانوں کے لیے ایک سنگین مسئلہ ہیں۔ اس وقت 15 سے 24 برس کے 37 فیصد نوجوان نہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، نہ ملازمت اور نہ ہی کسی تربیتی پروگرام میں شامل ہیں۔
دیہی علاقوں میں غربت 28.2 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں 10.9 فیصد ہے۔ صوبوں میں بلوچستان سب سے زیادہ متاثرہ ہے جہاں غربت 42.7 فیصد تک پہنچ گئی ہے، اس کے مقابلے میں پنجاب میں یہ شرح 16.3 فیصد ہے۔ تھرپارکر (76.9 فیصد) اور مظفرگڑھ جیسے اضلاع سب سے پسماندہ قرار دیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملک کی افرادی قوت کا 85 فیصد غیر رسمی ملازمتوں میں کم اجرت پر کام کر رہا ہے، جبکہ خواتین کی شمولیت خطرناک حد تک کم یعنی صرف 25.4 فیصد ہے۔ رپورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کی شہری آبادی کے سرکاری اعداد و شمار (39 فیصد) درست نہیں، اور اصل شرح 60 سے 80 فیصد کے درمیان ہو سکتی ہے۔
ورلڈ بینک نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر اسٹرکچرل اصلاحات، بہتر پبلک سروسز، روزگار کے مواقع اور معاشی استحکام یقینی نہ بنایا گیا تو پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں میں غربت کم کرنے کی کامیابیاں کھو سکتا ہے۔