کپاس جس کو سرائیکی وسیب اور وادی سندھ میں “ملوحہ یعنی ملتان” کی چاندی بھی کہا جاتا ہے ہمیشہ سے ملکی معیشت اور زراعت میں بہت زیادہ اہم شمار کی جاتی ہے – کپاس کی فصل سے کئی اہم شعبے ملکی معیشت میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں اور روزگار کا سبب بنتے ہیں جس میں ٹیکسٹائل، کھل بنولہ، زرعی ادویات، پوٹاش اور زنک بنانے والی صنعتیں شامل ہیں –
رحیم یار خان میں واج کے مقامی مشاہدہ کاروں کے مطابق گذشتہ ایک ہفتے 11 سے 17 ستمبر کے دوران غلہ منڈی میں کپاس کے نرخوں میں بتدریج اضافہ دیکھنے کو ملا ہے جو کہ کاشتکاروں کے لئے ایک خوش آئند بات ہے – 11 ستمبر کو کپاس کے نرخ 7200 روپے سے شروع ہوئے اور 17 ستمبر کو 7740 روپے فی من کی بولی ہوئی – حالیہ سیلاب کے دوران ملتان، بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان میں کپاس کی فصل کو شدید نقصان پہنچا ہے جس سے کپاس کی پیداوار میں بہت حد تک کمی کی توقع کی جارہی ہے – کپاس کی غلہ منڈیوں میں کم آمد سے نرخ مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے –
پنجاب کے بڑے اضلاع میں شمار کئے جانے والے ضلع رحیم یار خان میں گذشتہ ایک ہفتے سے کپاس کے نرخوں میں بتدریج اضافہ رکارڈ
-
By Web Desk
- September 18, 2025
Show Comments (0)
Hide Comments (0)
0
0
votes
Article Rating
Subscribe
Login
0 Comments
Oldest
Newest
Most Voted