اسلام آباد، 19 ستمبر 2025: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے واضح کیا ہے کہ حکومت کسی منی بجٹ پر غور نہیں کر رہی اور نہ ہی اضافی محصولات عائد کرنے کی کوئی تجویز زیر غور ہے۔ چیئرمین ایف بی آر کے مطابق سالانہ ریونیو ہدف میں ردوبدل کے بارے میں فی الحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کو منی بجٹ کے بجائے ٹیکس انفورسمنٹ کو مؤثر بنانے اور موجودہ محصولات کے نظام میں بہتری کے ذریعے آمدن بڑھانے کے اقدامات سے آگاہ کیا جائے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ حالیہ سیلابی نقصانات کے ازالے کے لیے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق حکومت نے ابتدائی طور پر فلڈ لیوی عائد کرنے پر غور کیا تھا، تاہم اب آئی ایم ایف کو متبادل اقدامات کے ذریعے آمدن بڑھانے کا پلان پیش کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ دریں اثنا، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے وزارتِ خزانہ کو ہدایت کی ہے کہ آئی ایم ایف سے زیادہ سے زیادہ مالی اور پالیسی ریلیف حاصل کیا جائے۔ اس سلسلے میں سیلاب متاثرین کے لیے بجلی بلوں میں ریلیف فراہم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، جب کہ زرعی قرضوں کی ادائیگی میں سہولت دینے کے آپشنز بھی زیر غور ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان آئی ایم ایف کو ایف بی آر کے ریونیو شارٹ فال، سیلاب کے باعث ٹیکس وصولیوں پر پڑنے والے اثرات اور معاشی شرح نمو کے ہدف میں معمولی ردوبدل کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دے گا۔ اس کے علاوہ حکومت آئی ایم ایف سے یہ رعایت حاصل کرنے کی بھی کوشش کرے گی کہ مزید نئے ٹیکس عائد نہ کیے جائیں اور موجودہ ٹیکس اہداف پر ہی عملدرآمد کو ترجیح دی جائے۔