اسلام آباد (نمائندہ خصوصی):
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں ستائیسویں آئینی ترمیم سے متعلق متعدد امور پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے، اور کوشش کی جا رہی ہے کہ تمام نکات پر متفقہ طور پر فیصلہ ہو۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ترمیم سے متعلق تمام نکات کو ایک رپورٹ کی شکل میں سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ “کوشش ہے کہ رپورٹ آج ہی مکمل ہو جائے، تاہم ہم جلدبازی نہیں کریں گے، کیونکہ اس معاملے پر کئی ہفتوں اور مہینوں سے تفصیلی مشاورت جاری ہے۔”
“پارلیمنٹ سے دوری، سیاست سے دوری کے مترادف ہے”
وزیر مملکت نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر تنقید کرتے ہوئے کہا:
“پی ٹی آئی جتنی پارلیمنٹ سے دور جائے گی، اتنی ہی سیاست سے دور ہو جائے گی۔ وہ ایک سیاسی جماعت ہے اور خیبر پختونخوا میں حکومت کر رہی ہے، لہٰذا پارلیمانی عمل سے الگ نہیں رہنا چاہیے۔”
“محمود اچکزئی پارلیمنٹ کا حصہ ہیں، دوڑنے کی ضرورت نہیں”
طلال چودھری نے کہا کہ محمود خان اچکزئی ہمیشہ پارلیمانی سیاست کا حصہ رہے ہیں،
“وہ جس اسمبلی میں بھی رہے، اسی کا حصہ رہے ہیں۔ اگر پارلیمنٹ کا حصہ ہیں تو اسے چھوڑنے یا دوڑنے کی ضرورت نہیں۔ پارلیمنٹ سے دوری سیاست سے مائنس ہونے کے برابر ہے۔”
“کسی کی دھمکیوں سے ترمیمی عمل نہیں رکے گا”
انہوں نے کہا کہ جن کے پاس 80 نشستیں ہیں اور پھر بھی اپنا اپوزیشن لیڈر مقرر نہیں کر پاتے، ان پر کیا تبصرہ کیا جائے؟
طلال چودھری نے واضح کیا کہ
“ستائیسویں آئینی ترمیم کسی کی دھمکیوں سے نہیں رکے گی۔ یہ قانون سازی اتفاقِ رائے سے مکمل ہوگی۔”