پیرس، ستمبر 16: مغربی دنیا میں کیتھولک چرچ طویل عرصے سے عبادت گزاروں کی کمی اور معتقدین کی بداعتمادی کا شکار رہا ہے، مگر اب ایک غیر متوقع احیاء سامنے آ رہا ہے جو نوجوان نسل جنریشن زی اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی شکل میں ان نئے مبلغین کی بدولت ہے جو یورپ میں لوگوں کو چرچ کی جانب کھینچ کر لا رہے ہیں ۔
سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق فرانس میں 18 سے 25 سالہ نوجوانوں کے بپتسمے گزشتہ چار برسوں میں چار گنا بڑھ گئے ہیں۔ رواں ایسٹر پر 17 ہزار 800 افراد نے بپتسمہ لیا، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 45 فیصد زیادہ ہے۔ یہ رجحان بیلجیئم، آئرلینڈ اور برطانیہ سمیت یورپ کے کئی ملکوں میں بھی دیکھا جا رہا ہے، جب کہ امریکہ میں بھی مذہبی زوال کے رکنے کے آثار مل رہے ہیں۔
29 سالہ سسٹر البرٹین ڈی بیکر، جو انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر لاکھوں فالوورز رکھتی ہیں، اس نئی لہر کی نمایاں شخصیت ہیں۔ وہ عبادات، دعاؤں، مذہبی تعلیمات اور روزمرہ زندگی سے متعلق مواد نوجوانوں کو ان کی اپنی زبان میں پیش کرتی ہیں۔ ان کے مطابق “نوجوان اب کھل کر مذہب پر بات کرتے ہیں، یہ اب کوئی ممنوع موضوع نہیں رہا۔”
محققین کے مطابق کرونا وبا کے بعد کے شور اور بے چینی میں نوجوان سکون، ترتیب اور کمیونٹی کی تلاش میں مذہب کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر نوجوان مرد، جنہیں سوشل میڈیا پر پھیلتی “زہریلی مردانگی” کے مقابلے میں چرچ ایک مختلف اور مثبت شناخت دیتا ہے۔
ویٹی کن بھی اس رجحان سے باخبر ہے۔ پوپ لیو نے رواں سال ایک ہزار کیتھولک انفلوئنسرز کو “ڈیجیٹل مشنری” قرار دیا ہے ۔ مبصرین اس رجحان کو “خاموش احیاء” قرار دے رہے ہیں، کیونکہ یہ کسی منصوبہ بندی کے بغیر شروع ہوا اور اب یورپ و امریکہ میں نوجوان نسل کے درمیان تیزی سے پھیل رہا ہے۔