38 سال بعد دریائے راوی کا سیلاب، دیہات اجڑ گئے، بیماریاں اور ذہنی دباؤ بڑھ گیا

ساہیوال (نامہ نگار) دریائے راوی کے سیلاب نے 38 برس بعد ایک بار پھر تباہی مچادی، گھر بار اور کھڑی فصلات بہا لے گیا۔ میدانی خطہ ہونے کے باعث پانی کی نکاسی نہایت سست ہے جس سے کھیتوں میں جمع پانی اور گلنے سڑنے والی فصلات بدبو اور تعفن پھیلانے کا سبب بن رہی ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں چند منٹ قیام بھی مشکل ہوچکا ہے جبکہ سانس اور جلدی امراض عام ہو رہے ہیں۔

سیلاب سے ہونے والے وسیع پیمانے پر نقصانات نے دیہات کے باسیوں کو نفسیاتی طور پر بھی شدید متاثر کیا ہے۔ مرد و خواتین میں ذہنی دباؤ بڑھنے سے ذہنی امراض میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

یونین کونسل 48، چک نمبر 110/7-آر تحصیل چیچہ وطنی کے متاثرہ مکین اپنی مدد آپ کے تحت اور امدادی تنظیموں کے تعاون سے ریلیف سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ اس سلسلے میں 17 ستمبر کو نہید اعجاز ٹرسٹ کے زیر اہتمام دربار سید محمد حنیف شاہ پر فری میڈیکل کیمپ لگایا گیا، جہاں فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر سید محمد عمر اور دیگر ماہرین نے 200 سے زائد متاثرین کا معائنہ کیا۔

ڈاکٹر سید محمد عمر کے مطابق تقریباً 70 افراد کی ذہنی صحت بری طرح متاثر ہوئی ہے جنہیں ادویات فراہم کی گئی ہیں جبکہ ان کے لیے ماہر نفسیات سے کونسلنگ کا انتظام بھی جلد کیا جائے گا۔ باقی مریضوں میں زیادہ تر جلدی امراض اور سانس کی شکایات پائی گئیں جنہیں فوری علاج فراہم کیا گیا۔

سماجی کارکن صوفی شہزاد اکبر جولاھا نے اس موقع پر کہا کہ انسانوں کے ساتھ ساتھ مال مویشیوں کے علاج کے لیے بھی فری میڈیکل کیمپ کی ضرورت ہے اور امید ہے اہل خیر کے تعاون سے جلد یہ سہولت فراہم کی جائے گی۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x