پاکستان میں 70 لاکھ سے زائد کاروباری ادارے — مگر 99 فیصد چھوٹے یونٹ!

اسلام آباد، 11 ستمبر — پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہونے والی ڈیجیٹل اکنامک سینسس 2023/24 نے چونکا دینے والے حقائق آشکار کیے ہیں۔ ملک بھر میں قائم کاروباری اداروں کی تعداد 71 لاکھ 40 ہزار ریکارڈ کی گئی، مگر حیران کن طور پر ان میں سے 99 فیصد چھوٹے یونٹ ہیں جہاں پچاس سے کم افراد کام کرتے ہیں ۔

گیلپ کی ایک تازہ تجزیاتی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معیشت پر خوردہ دکانوں کی حکمرانی ہے جن کی تعداد تقریباً 27 لاکھ ہے، جبکہ بڑے کارخانے صرف 23 ہزار نکلے — جو کل کا صرف 0.1 فیصد ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ملک میں صنعت کے بجائے خوردہ تجارت اور خدمات کا بوجھ کہیں زیادہ ہے۔ ماہرین نے اسے “مِسنگ مڈل” قرار دیا ہے: یعنی بے شمار چھوٹے یونٹ، لیکن نہ ہونے کے برابر درمیانے اور بڑے ادارے۔

گیلپ پاکستان کے مطابق یہ سینسس پہلی مرتبہ معاشی اداروں کو آبادی کے ڈیٹا کے ساتھ یکجا کر کے تیار کیا گیا اور اس میں ہر طرح کے ادارے شامل ہیں — دکانوں اور ہوٹلوں سے لے کر سکولوں، ہسپتالوں، حتیٰ کہ مساجد تک ۔

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر مائیکرو یونٹس کو پائیدار ایس ایم ایز میں تبدیل نہ کیا گیا تو پاکستان کی پیداواری صلاحیت اور برآمدی اہداف بری طرح متاثر رہیں گے۔ بقول تجزیہ کاروں کے: “اعداد و شمار نے پاکستان کی معیشت کا وہ چہرہ دکھا دیا ہے جسے پالیسی ساز برسوں نظرانداز کرتے آئے ہیں۔”

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x