اوزون کی تہہ میں بہتری کی علامات: ماہرین نے زمین کے مستقبل کے لیے امید افزا خبر دی

اسلام آباد: ماحولیات کے ماہرین نے خوشخبری سنائی ہے کہ زمین کی حفاظتی اوزون تہہ صحتیاب ہو رہی ہے اور آئندہ چند دہائیوں میں مکمل طور پر بحال ہو سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کے پینل کے مطابق انسانی اقدامات مثبت نتائج دے رہے ہیں، جس سے سورج کی نقصان دہ شعاعوں کے خطرات میں کمی آ رہی ہے۔

بحالی کا سہرا مونٹریال پروٹوکول کو

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اوزون کی تہہ کی بحالی کا زیادہ تر سہرا 1987 میں طے پانے والے مونٹریال پروٹوکول کو جاتا ہے۔ اس بین الاقوامی معاہدے نے تقریباً 100 ایسے کیمیائی مادّوں کی پیداوار اور استعمال پر پابندی لگائی جنہیں اوزون کو نقصان پہنچانے والے مادّے کہا جاتا ہے۔ ابتدا میں 46 ممالک نے اس معاہدے پر دستخط کیے تھے اور آج دنیا کے تمام ممالک اس کی توثیق کر چکے ہیں۔

یو این نیوز کے مطابق”اوزون کو نقصان پہنچانے والے مادّوں کے استعمال میں کمی کے نتیجے میں بالائی فضاء میں اوزون کی تہہ نمایاں طور پر بحال ہوئی ہے، اور سورج کی بالائے بنفشی شعاعوں کے اثرات کم ہو گئے ہیں۔”

اوزون کی تہہ کیوں اہم ہے؟

ماحولیاتی جریدے نیشنل جیوگرافک کے مطابق اوزون کی تہہ زمین کے فضائی غلاف کا ایک باریک حصہ ہے جو سورج کی تقریباً تمام نقصان دہ بالائے بنفشی شعاعوں کو جذب کر لیتا ہے۔ اگر اس تہہ میں سوراخ بن جائے تو یہ شعاعیں زمین تک پہنچ کر جانداروں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق یہ شعاعیں ڈی این اے کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، دھوپ سے جھلسا سکتی ہیں اور طویل مدتی طور پر جلد کے کینسر کے خطرات میں اضافہ کر سکتی ہیں۔

خرابی کی ابتدا اور شکوک

اوزون کی تہہ کی خرابی 1970 کی دہائی میں دریافت ہوئی، جب سائنس دانوں نے کلورو فلورو کاربنز (CFCs) کو ذمہ دار قرار دیا، جو اس وقت ریفریجریٹرز، ایئر کنڈیشنرز، فوم انسولیشن اور اسپرے کینز میں عام تھے۔ 1985 میں برٹش انٹارکٹک سروے کے سائنس دانوں نے انٹارکٹکا کے اوپر اوزون میں ایک بڑا سوراخ دریافت کیا، جس نے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی۔ دو سال بعد، یعنی 1987 میں مونٹریال پروٹوکول طے پایا۔ بی بی سی کے مطابق”یہ اقوام متحدہ کا پہلا معاہدہ تھا جسے دنیا کے تمام ممالک نے توثیق کیا، اور اب تک 99 فیصد ممنوعہ مادّوں کو ختم کیا جا چکا ہے۔”

ابتدائی طور پر کچھ ماہرین کو شک تھا کہ پابندی سے خاطر خواہ نتائج نکلیں گے یا نہیں۔ خاص طور پر جب 2000 تک انٹارکٹکا کے اوپر اوزون کا سوراخ پھیلتا رہا تو خدشات مزید بڑھ گئے۔ تاہم حالیہ رپورٹس نے واضح کر دیا ہے کہ عالمی سطح پر کیے گئے اقدامات واقعی کامیاب ہو رہے ہیں۔

1
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x