خیبرپختونخوا کی سیاست میں نیا موڑ آ گیا ہے۔ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور گورنر فیصل کریم کنڈی کے درمیان استعفوں کے دستخطوں پر اختلاف نے معاملے کو الجھا دیا ہے۔ ایک جانب وزیراعلیٰ دونوں استعفوں کو مستند قرار دے رہے ہیں، تو دوسری جانب گورنر دستخطوں کے فرق کی بنیاد پر تصدیق کا عمل ضروری سمجھ رہے ہیں۔
علی امین گنڈاپور کا مؤقف
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے گورنر کی جانب سے دستخطوں کے فرق پر اٹھائے گئے اعتراضات کو مسترد کر دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ 8 اور 11 اکتوبر کو جمع کرائے گئے دونوں استعفے ان کے اصل اور مستند دستخطوں کے ساتھ ہیں، اس میں کسی قسم کا تضاد نہیں۔
علی امین کے مطابق 8 اکتوبر کا استعفیٰ تو گورنر آفس پہلے ہی تسلیم کر چکا ہے، اب اس پر اعتراض اٹھانا حیران کن اور غیرضروری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ’’میں دوبارہ کہہ رہا ہوں، دونوں استعفے میرے اصل دستخطوں کے ساتھ ہیں، کسی قسم کا ابہام نہیں۔‘‘
گورنر فیصل کریم کنڈی کا مؤقف
دوسری جانب گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ان استعفوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ 8 اور 11 اکتوبر کو موصول ہونے والے استعفوں پر دستخط مختلف نظر آتے ہیں۔
ان کے مطابق ان دستخطوں کی مستند حیثیت کی تصدیق کے بغیر کوئی آئینی فیصلہ ممکن نہیں۔
گورنر نے اعلان کیا ہے کہ 15 اکتوبر کو وزیراعلیٰ گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کریں گے، جہاں دستخطوں کی جانچ اور قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ’’فیصلہ آئین کی روشنی میں کیا جائے گا، تصدیق کے بعد ہی کسی نتیجے پر پہنچا جائے گا۔‘‘

اسی دوران، صوبے میں نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے آج خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ وزارتِ اعلیٰ کے منصب کے لیے چار امیدوار میدان میں ہیں — تحریکِ انصاف کے سہیل آفریدی، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مولانا لطف الرحمان، مسلم لیگ (ن) کے سردار شاہجہان یوسف اور پیپلز پارٹی کے ارباب زرک۔
اسمبلی کے 145 ارکان میں سے 73 ووٹ حاصل کرنے والا امیدوار نیا وزیراعلیٰ بن سکے گا۔ موجودہ ایوان میں حکومتی اتحاد کے 93 جبکہ اپوزیشن کے 52 ارکان ہیں۔ تاہم اپوزیشن جماعتیں مشترکہ امیدوار لانے یا انتخابی عمل کے بائیکاٹ پر غور کر رہی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ جب تک علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ آئینی طور پر منظور نہیں ہوتا، نیا انتخاب غیر آئینی تصور کیا جائے گا۔
پشاور میں اسمبلی اجلاس کے دوران سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ اسپیکر بابر سلیم سواتی، اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباداللہ اور دیگر رہنماؤں کے درمیان مذاکرات بھی جاری ہیں، تاکہ انتخابی عمل کے حوالے سے کسی اتفاق رائے تک پہنچا جا سکے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی ارکان وزیراعلیٰ ہاؤس میں جمع ہیں جہاں پارٹی کی حکمت عملی طے کی جا رہی ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق آئین کے تحت گورنر کو استعفیٰ کی منظوری کا اختیار حاصل نہیں، لہٰذا انتخاب میں کوئی رکاوٹ نہیں۔
صورتحال اس وقت نازک موڑ پر ہے — ایک طرف گورنر کے اعتراضات کے باعث استعفیٰ کی آئینی حیثیت سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے، تو دوسری طرف نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کا عمل جاری ہے۔ سب کی نظریں اب 15 اکتوبر پر ہیں، جب گورنر ہاؤس میں علی امین گنڈاپور کے دستخطوں کی تصدیق کے بعد شاید یہ “استعفیٰ معمہ” کسی حتمی انجام کو پہنچ سکے۔