کرکٹ کا نیا باب — ‘ٹیسٹ ٹوئنٹی’ فارمیٹ متعارف، ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی کا امتزاج

(ویب ڈیسک)
کرکٹ کی دنیا میں ایک نیا باب رقم ہو گیا ہے — ’ٹیسٹ ٹوئنٹی‘ (Test Twenty) کے نام سے کھیل کا چوتھا فارمیٹ باضابطہ طور پر متعارف کرا دیا گیا ہے۔

یہ منفرد طرز ٹیسٹ کرکٹ اور ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کا امتزاج ہے، جس کا باقاعدہ آغاز سال 2026 میں جونیئر ٹیسٹ ٹوئنٹی چیمپئن شپ کے ذریعے کیا جائے گا۔

نیا ٹورنامنٹ 13 سے 19 سال کے نوجوان کھلاڑیوں کے لیے مخصوص ہوگا، جس کا مقصد ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کو ایک نئی طرز کی کرکٹ میں اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع فراہم کرنا ہے۔


بانی اور اعلانات

ٹیسٹ ٹوئنٹی کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر گورو بہیروانی نے فارمیٹ کا اعلان عالمی کرکٹ کے معروف کھلاڑیوں اے بی ڈی ویلیئرز، میتھیو ہیڈن، ہربھجن سنگھ اور سر کلاؤیو لائیڈ کے ہمراہ کیا۔
تمام اسٹارز نے اس فارمیٹ کو “کرکٹ کا مستقبل” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نوجوانوں کے لیے عالمی سطح پر نیا پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔


فارمیٹ کے قوانین

ہر ٹیم دو اننگز کھیلے گی، ہر اننگز 20 اوورز پر مشتمل ہوگی — یعنی میچ 80 اوورز کا ہوگا۔

میچ صرف ایک دن میں مکمل ہوگا۔

نتیجہ جیت، ہار، ٹائی یا مشروط ڈرا کی صورت میں آ سکتا ہے۔

اگر بیٹنگ ٹیم دوسری اننگز میں 5 وکٹیں باقی رکھتے ہوئے میچ ختم کرے تو میچ ڈرا قرار دیا جائے گا۔


ٹیمیں اور کھلاڑیوں کا انتخاب

ابتدائی مرحلے میں 6 فرنچائزز حصہ لیں گی — 3 بھارتی اور 3 بین الاقوامی ٹیمیں۔

ہر فرنچائز کی شریک ملکیت مشہور کرکٹرز، اداکاروں اور کاروباری شخصیات کے بچوں کو دی جائے گی تاکہ کھیل کو نئی نسل سے جوڑا جا سکے۔

کھلاڑیوں کے انتخاب کے دو طریقے ہوں گے:

  1. براہِ راست انٹری — معروف کوچز یا کرکٹرز کی سفارش پر۔
  2. اسٹینڈرڈ انٹری — جس میں دنیا بھر سے نوجوان کھلاڑیوں کا AI سسٹم، موشن سینسرز اور ڈیٹا انٹیلیجنس کے ذریعے انتخاب کیا جائے گا۔

ابتدائی طور پر 1000 کھلاڑی شارٹ لسٹ ہوں گے، جنہیں ٹیسٹ ٹوئنٹی انٹیلیجنس انڈیکس (TTII) کے تحت جانچا جائے گا۔
ان میں سے 300 کھلاڑی عالمی نیلامی میں شامل ہوں گے جبکہ 96 کھلاڑی 6 فرنچائزز میں منتخب کیے جائیں گے۔


میچ کے منفرد اصول

پاور پلے صرف ایک بار ہوگا (4 اوورز) اور اس کا وقت کپتان طے کرے گا۔

اگر کوئی ٹیم 10 اوورز سے پہلے آل آؤٹ ہو جائے تو دوسری ٹیم کو 3 اضافی اوورز ملیں گے۔

ہر باؤلر زیادہ سے زیادہ 8 اوورز کرا سکے گا۔

نو بالز یا وائیڈز پر سخت جرمانے ہوں گے — ایک اوور میں 3 سے زائد ہونے پر 3 اضافی رنز دیے جائیں گے۔

سست اوور ریٹ پر 5 رنز جرمانہ اور اسٹریٹیجک ٹائم آؤٹ میں کمی کی سزا دی جائے گی۔

ٹائی کی صورت میں “سپر سیشن” ہوگا — ایک اوور کا فیصلہ کن مرحلہ، اور اگر وہاں بھی نتیجہ نہ نکلے تو زیادہ باؤنڈریز والی ٹیم فاتح قرار پائے گی۔


کرکٹ کا مستقبل؟

ماہرین کے مطابق ٹیسٹ ٹوئنٹی مستقبل میں نوجوان کرکٹرز کے لیے ایک ہائی ٹیک، تیز رفتار اور ذہانت پر مبنی کرکٹ کا نیا دور ثابت ہو سکتا ہے — جو روایتی کرکٹ کے ساتھ AI اور ڈیجیٹل ڈیٹا کے امتزاج سے ایک نیا تاثر پیدا کرے گا۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x