کوئٹہ:
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ عبدالرحمٰن کھیتران نے انکشاف کیا ہے کہ
بلوچستان میں آدھی مدت کے بعد مسلم لیگ (ن) اپنی اتحادی حکومت تشکیل دے گی۔
پاور شیئرنگ معاہدے کی تفصیلات
بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں عبدالرحمٰن کھیتران نے بتایا کہ
پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے مطابق
صوبے میں ڈھائی سال بعد وزیراعلیٰ کا عہدہ مسلم لیگ (ن) کو دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ انتخابات کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان حکومت سازی کے دوران کیا گیا تھا،
تاکہ صوبے میں سیاسی استحکام اور اتحادی تعاون کو برقرار رکھا جا سکے۔
پاور شیئرنگ معاہدے کی دیگر شقیں
صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ
اس معاہدے میں سینیٹ کے چیئرمین، قومی اسمبلی کے اسپیکر اور بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر کی مدتِ ملازمت بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پاور شیئرنگ فارمولہ تمام اعلیٰ آئینی عہدوں پر لاگو ہوگا،
جس پر دونوں جماعتوں کی قیادت نے اتفاق کیا تھا۔
وزیراعظم کے عہدے پر وضاحت
عبدالرحمٰن کھیتران نے واضح کیا کہ
یہ تاثر درست نہیں کہ بلوچستان میں وزیراعلیٰ کا عہدہ دینے کے بدلے پیپلز پارٹی کے چیئرمین کو وزیرِاعظم بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے الگ ہیں اور
وفاق میں وزیراعظم کے انتخاب کا فیصلہ مرکزی سطح پر سیاسی اتفاق رائے کے تحت ہوا تھا۔
اہم نکات
- بلوچستان میں آدھی مدت کے بعد مسلم لیگ (ن) حکومت بنائے گی۔
- وزیراعلیٰ کا عہدہ اتحادی معاہدے کے تحت مسلم لیگ (ن) کو منتقل کیا جائے گا۔
- سینیٹ، قومی اسمبلی اور بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر شپ بھی معاہدے کا حصہ ہیں۔
- پیپلز پارٹی کے چیئرمین کو وزیراعظم بنانے کا معاملہ پاور شیئرنگ فارمولا نہیں۔