اسلام آباد ۔۔ وفاقی حکومت نے آئینِ پاکستان میں ایک اور بڑی آئینی ترمیم – ستائیسویں (27ویں) آئینی ترمیم – کی تیاری شروع کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے اس مجوزہ ترمیم کے مسودے پر ابتدائی مشاورت کا آغاز کر دیا ہے، جس میں عدلیہ، وفاقی و صوبائی اختیارات، اور آئینی اداروں سے متعلق کئی اہم نکات شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق، مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کے تحت “آئینی عدالت” کے قیام کی تجویز دی جا رہی ہے، جو آئین کی تشریح اور آئینی تنازعات کے فیصلوں کی مجاز ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ ایگزیکٹو مجسٹریٹس کا نظام دوبارہ بحال کرنے اور ججوں کے تبادلوں کا اختیار واضح طور پر آئین میں شامل کرنے کی سفارش بھی زیرِ غور ہے۔
ترمیمی مسودے میں این ایف سی ایوارڈ (نیشنل فنانس کمیشن) کے تحت صوبوں کے حصے کے تحفظ سے متعلق شق میں تبدیلی کی تجویز بھی شامل ہے، جس کے ذریعے صوبائی وسائل کی تقسیم کے موجودہ فارمولے پر وفاق کو نظرثانی کا اختیار حاصل ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ ترامیم میں آرٹیکل 243 جو مسلح افواج کی کمان سے متعلق ہے میں تبدیلیوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
اسی طرح، تعلیم اور آبادی کی منصوبہ بندی کے شعبے، جو اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کو منتقل کر دیے گئے تھے، انہیں دوبارہ وفاقی دائرہ اختیار میں لانے کی تجاویز بھی مجوزہ ترمیم کا حصہ ہیں۔
ذرائع کے مطابق، ترمیم کا ایک اہم مقصد الیکشن کمیشن کی تقرری کے طریقۂ کار پر جاری سیاسی تعطل کو ختم کرنا بھی ہے، تاکہ مستقبل میں الیکشن کمیشن کی تشکیل اور تقرری کے عمل کو مؤثر اور شفاف بنایا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ ترمیمی بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا حتمی فیصلہ مشاورت مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، اگر وفاق نے یہ ترامیم منظور کرالیں تو یہ پاکستان کے وفاقی ڈھانچے اور صوبائی خودمختاری کے اصول پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔