تحریر: زعفران شاہ بابر
کوئٹہ: پاکستان سے افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل تیزی سے جاری ہے، جس سے بلوچستان سمیت ملک کی معیشت میں تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق،حالیہ مہم کے دوران کوئٹہ سے 35ہزارسے زائد افغان مہاجرین واپس جا چکے ہیں، جبکہ صوبے بھر سے تقریباً 40 ہزارافراد نے سرحد عبور کی ہے۔ یہ عمل انسانی اور معاشی دونوں لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان مہاجرین گزشتہ 40 سال سے زائد عرصے سے بلوچستان کے سماجی و معاشی ڈھانچے کا حصہ رہے ہیں۔ وہ چھوٹے کاروبار، مزدوری اور زراعت میں متحرک تھے۔ ان کی واپسی سے ساریاب روڈ اور ڈایری فورٹ سمیت کوئٹہ کی دیگر مارکیٹوں میں کاروباری رفتار میں سست روی دیکھی جا رہی ہے۔
مقامی کاروبار پر اثرات
ڈایری فورٹ مارکیٹ کے ایک تاجر عبید اللہ، جو خشک میوہ جات کا کاروبار کرتے ہیں، نے بتایاگزشتہ برسوں میں موسمِ سرما کے دوران کاروبار اپنے عروج پر ہوتا تھا، مگر اس سال گاہکوں کی تعداد میں کمی آئی ہے اور بارڈر پر رکاوٹوں کی وجہ سے سپلائی بھی متاثر ہوئی ہے۔ان کے مطابق، افغان خریدار ان کے اہم گاہکوں میں شامل تھےاور ان کی واپسی کے بعد مارکیٹ سرگرمیاں کم ہوئی ہیں۔
تاجروں کے خدشات
انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم کاکڑ کاموقف ہے کہ افغان مہاجرین کی واپسی سے کاروباری ماحول میں وقتی دباؤ آیا ہے، کیونکہ وہ کئی دہائیوں سے تجارتی نظام کا حصہ تھے۔انہوں نے حکومت کو تجویز دی کہ افغان شہریوں کے چھوڑے گئے کاروباری اثاثوں اور جائیدادوں کے حوالے سے ایک منظم حکمتِ عملی وضع کرے تاکہ مقامی معیشت کو استحکام دیا جا سکے۔
قانونی پہلو
قانونی ماہر قسیم اچکزئی نے بتایا کہ بلوچستان ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں 1947 کے بارڈر لینڈز ایکٹ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق، اس قانون کے تحت جائیدادوں کے انتظام اور استعمال کے لیے قانونی راستے موجود ہیں، جنہیں موجودہ حالات میں بھی اپنایا جا سکتا ہے۔جس سے افغان مہاجرین کی جائیدادوں کی نیلامی سے معاشی استحکام ممکن ہے۔
زراعت پر اثرات
بلوچستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر وائس پریذیڈنٹ اختر کاکڑ کا کہنا ہے کہ افغان مزدور صوبے کے زرعی نظام کا ایک فعال حصہ تھے۔انہوں نے کہا کہ کئی مقامی زمین مالکان اپنی زمینیں افغان مزدوروں کے سپرد کرتے تھے۔ اب ان کی غیر موجودگی میں لاگت میں اضافہ اور پیداوار میں کمی کا خدشہ ہے۔انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی راستے کھلے رکھے جائیں تاکہ زراعت اور تجارت کو سہارا مل سکے۔
ماہرین معاشیات کا تجزیہ
ماہرِ معاشیات جہانگیر خان کاکڑ کا کہنا ہے کہ افغان مہاجرین کی واپسی سے معیشت میں کچھ وقتی دباؤ ضرور آئے گا، مگر مناسب منصوبہ بندی سے اس اثر کو متوازن کیا جا سکتا ہے۔
عوامی رائے
کوئٹہ کے دکانداروں اور شہریوں کے مطابق حالیہ تبدیلیوں سے کاروباری ماحول متاثر ہوا ہے اور کچھ علاقوں میں پراپرٹی کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔تاہم وہ امید ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت اگر بارڈر ٹریڈ اور مقامی کاروبار کے لیے معاون پالیسیاں اپنائے تو حالات جلد بہتر ہو سکتے ہیں۔
یو این ایچ سی آر کی رپورٹ
یو این ایچ سی آر کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں 17 لاکھ سے زائد غیر دستاویزی افغان مہاجرین موجود تھے، جن میں بلوچستان میں سب سے زیادہ تعداد پائی جاتی تھی۔
نتائج اور تجاویز
ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان مہاجرین کی واپسی ایک بڑا سماجی و معاشی عمل ہے، جس کے اثرات طویل المدت ہو سکتے ہیں۔ حکومت، تاجر برادری اور بین الاقوامی اداروں کے باہمی تعاون سے اس مرحلے کو زیادہ مؤثر اور متوازن طریقے سے سنبھالا جا سکتا ہے۔
کیا افغان مہاجرین کی واپسی سے پاکستان کی معیشت مستحکم ہوگی یا کمزور؟ یہ سوال ابھی تک حل طلب ہے۔
بہت زبردست تجزیہ ہے اور اس تجزیہ میں آپ نے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا ہے