اسلام آباد…حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق مذاکرات میں بڑی پیشرفت ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق چار اہم نکات پر دونوں بڑی اتحادی جماعتوں میں اتفاقِ رائے طے پا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ 27ویں ترمیم میں شامل آئینی عدالت کے قیام سے متعلق شق،چیف الیکشن کمشنر اور ارکان کی تقرری کے طریقہ کار میں ترمیم،آرٹیکل 243 کے تحت افواجِ پاکستان کے سربراہان کی تعیناتی سے متعلق تبدیلی اورمجسٹریٹی نظام کی جزوی بحالی سے متعلق نکات پر اتفاق رائے ہے تاہم ذرائع نے مزید بتایا کہ این ایف سی ایوارڈ سے متعلق کوئی ترمیم اس آئینی ترمیمی پیکج کا حصہ نہیں ہوگی۔
ذرائع کے مطابق، پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں چاروں نکات کی باضابطہ منظوری دیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد حکومت ترمیمی بل کو سینیٹ میں پیش کرے گی۔
پارلیمانی نمبر گیم مکمل ہونے کا دعویٰ
ذرائع کے مطابق، حکومت اور اس کی اتحادی جماعتوں کو ترمیم منظور کرانے کے لیے سینیٹ میں مطلوبہ 64 ووٹوں کی حمایت حاصل ہے۔
پیپلز پارٹی کے 26 ارکان،مسلم لیگ (ن) کے 20 ،بلوچستان عوامی پارٹی کے 4 ،ایم کیو ایم کے 3 ،نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ ق کا ایک ایک رکن حکومت کے ساتھ ہیں۔
ذرائع کے مطابق آزاد سینیٹرز عبدالکریم، عبدالقادر، محسن نقوی، انوارالحق کاکڑ، اسد قاسم اور فیصل واڈا بھی حکومت کی حمایت میں ووٹ ڈالیں گے، جبکہ نسیمہ احسان کا ووٹ بھی ترمیم کے حق میں جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل
ذرائع کے مطابق، 27ویں آئینی ترمیم کی شقوں پر غور کے لیے ایک مشترکہ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کی صدارت فاروق ایچ نائیک کریں گے۔کمیٹی کو سفارشات تیار کرنے کے لیے دو روز کا وقت دیا جائے گا۔سینیٹ اس ضمن میں قومی اسمبلی کے ساتھ مشترکہ کمیٹی کی منظوری دے گا، جبکہ چیئرمین سینیٹ اسپیکر قومی اسمبلی سے اراکین کے نام لیں گے۔