صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ یہ اہم فیصلہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کے مشورے پر کیا گیا ہے، جس کی بنیاد اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک ڈویژن بینچ کا حالیہ فیصلہ ہے۔
چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں قائم عدالتی بینچ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا تھا کہ جسٹس جہانگیری کی ہائی کورٹ میں تقرری قانونی اختیار کے بغیر کی گئی تھی۔ عدالت نے قرار دیا کہ تقرری اور توثیق کے وقت ان کے پاس ایل ایل بی کی درست ڈگری موجود نہیں تھی، جو کہ آئین کے آرٹیکل 175-اے کے تحت ہائی کورٹ کا جج بننے کے لیے ایک لازمی قانونی شرط ہے۔
مقدمے کی سماعت کے دوران یونیورسٹی آف کراچی کے رجسٹرار نے عدالت کو باقاعدہ آگاہ کیا کہ یونیورسٹی کی سینڈیکیٹ نے جسٹس جہانگیری کی ڈگری منسوخ کر دی ہے۔ ریکارڈ کے مطابق یہ ڈگری 1980 کی دہائی کے آخر میں “غیر منصفانہ ذرائع” سے حاصل کی گئی تھی۔ اس انکشاف کے بعد عدالت نے انہیں فوری طور پر عہدے سے سبکدوش کرنے کا حکم دیا، جس کی روشنی میں اب صدرِ مملکت نے ان کی برطرفی کی توثیق کر دی ہے۔