معروف بھارتی شاعر اور نغمہ نگار جاوید اختر نے بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے ایک تقریب کے دوران مسلم خاتون طالبہ کا نقاب کھینچنے کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے اس عمل کو غیر مناسب، توہین آمیز اور انسانی وقار کے منافی قرار دیتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ سے غیر مشروط معافی کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ واقعہ ایک سرکاری تقریب کے دوران پیش آیا جہاں ایک میڈیکل طالبہ کو اسٹیج پر سرٹیفکیٹ دینے کے لیے بلایا گیا تھا۔ اس موقع پر نتیش کمار نے طالبہ کی مرضی کے بغیر اس کا نقاب ہٹا دیا، جس کی ویڈیو وائرل ہونے پر سوشل میڈیا پر غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ جاوید اختر نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ اگرچہ وہ ذاتی طور پر پردے کے روایتی تصور کے حامی نہیں ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کسی خاتون کی شخصی آزادی اور انتخاب کی اس طرح توہین کی جائے۔
انسانی حقوق کے کارکنان اور مختلف سماجی تنظیموں نے بھی اس اقدام کو خواتین کے احترام اور آئینی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ جاوید اختر کے مطابق، کسی بھی عوامی عہدے پر فائز شخص کو زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی شہری کی نجی ترجیحات میں اس طرح مداخلت کرے۔ اب تک بہار حکومت کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔