توشہ خانہ ٹو کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو سزا سنائے جانے کے بعد حکومت کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ حکومتی عہدیداروں نے اس فیصلے کو “انصاف کی فتح” قرار دیتے ہوئے بانی پی ٹی آئی پر عہدے کے ناجائز استعمال اور کرپشن کے الزامات دہرائے ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اپنے بیان میں کہا کہ عدالت نے پراسیکیوشن کے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر انصاف پر مبنی فیصلہ سنایا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ توشہ خانہ کے تحائف کی قیمتیں فراڈ کے ذریعے کم لگوائی گئیں اور انہیں فروخت کر کے ریاست کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ یہ سزا 190 ملین پاؤنڈ کیس کی سزا ختم ہونے کے بعد شروع ہوگی۔
مشیر سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا کہ تحائف کے معاملے میں جعلی انٹریاں کی گئیں اور دوسروں کو چور کہنے والے خود ڈاکے ڈالتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کیس میں انکار ممکن نہیں کیونکہ پیسوں کی ادائیگی تک ہر چیز کی دستاویزی شہادت موجود ہے۔ دوسری جانب، صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے اقتدار میں آکر ہیروں کا کاروبار کیا اور سیاست کا مقصد ہیرے جمع کرنا نہیں ہونا چاہیے۔
توشہ خانہ ٹو کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا پر وفاقی و صوبائی وزراء کا ردعمل
-
By Web Desk
- December 20, 2025
Show Comments (0)
Hide Comments (0)
0
0
votes
Article Rating
Subscribe
Login
0 Comments
Oldest
Newest
Most Voted