پاکستان میں 5G کا آغاز: اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے اسپیکٹرم نیلامی کی منظوری دے دی

پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی جانب ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے، وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے 5G اسپیکٹرم کی نیلامی کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اعلان وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

اس اقدام کا مقصد ملک میں انٹرنیٹ کی رفتار کو عالمی معیار کے مطابق بنانا اور “ڈیجیٹل پاکستان” کے وژن کو حقیقت میں بدلنا ہے۔

نیلامی اور تکنیکی تفصیلات

پریس کانفرنس میں اس اہم منصوبے کے حوالے سے درج ذیل اہم نکات سامنے آئے:

  • 600 میگاہرڈز اسپیکٹرم: وزیر آئی ٹی نے اعلان کیا کہ حکومت 600 میگاہرڈز (MHz) بینڈ کے اسپیکٹرم کی نیلامی کرنے جا رہی ہے، جو بہترین کوریج اور تیز رفتار ڈیٹا کی منتقلی کے لیے موزوں ہے۔
  • عالمی معیارات: وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ نیلامی کا ڈیزائن، قیمت کا تعین اور ادائیگی کی شرائط بین الاقوامی بہترین طریقوں (International Standards) کو مدنظر رکھ کر ترتیب دی گئی ہیں۔
  • ادائیگی کی شرائط: سرمایہ کاروں کی سہولت کے لیے ادائیگی کے طریقہ کار کو پرکشش بنایا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ کمپنیاں اس عمل میں حصہ لیں۔

ڈیجیٹل پاکستان اور معاشی اثرات

وزراء نے اس بات پر زور دیا کہ انٹرنیٹ ہی جدید معیشت کی بنیاد ہے۔ 5G کی آمد سے نہ صرف آئی ٹی سیکٹر بلکہ تعلیم، صحت اور صنعتوں میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔

  • مشاورتی عمل: ٹیلی کام کمپنیوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ نیلامی کا عمل شفاف اور کامیاب رہے۔
  • پی آئی اے کی نجکاری: وزیراعظم کے ترجمان مشرف زیدی نے اسے حکومت کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک ہی وقت میں پی آئی اے کی نجکاری اور 5G اسپیکٹرم جیسے بڑے منصوبوں کی منظوری وزیراعظم کی پالیسیوں کے عملی نتائج ہیں۔

اسپیکٹرم ایڈوائزری کمیٹی کی سفارشات اب حتمی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو پیش کی جائیں گی، جس کے بعد نیلامی کے باقاعدہ شیڈول کا اعلان کیا جائے گا۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x