اسلام آباد۔۔۔۔قومی اسمبلی نے 2025 میں ریکارڈ قانون سازی، 27ویں آئینی ترمیم سمیت 53 اہم بل منظور
سال 2025ء پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں غیر معمولی قانون سازی کے حوالے سے یادگار رہا۔ قومی اسمبلی نے اس سال دستورِ پاکستان میں اہم ترین 27ویں آئینی ترمیم سمیت مجموعی طور پر 53 بلز کی منظوری دی، جن میں عدالتی، انتظامی اور عسکری ڈھانچوں میں نمایاں تبدیلیاں شامل ہیں۔
قومی اسمبلی کا 21واں اجلاس سات اہم قوانین کی منظوری کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ 27ویں آئینی ترمیم پر ایوان میں 10 گھنٹے 4 منٹ تفصیلی بحث ہوئی، جس میں 57 ارکانِ اسمبلی نے اظہارِ خیال کیا۔ حکومتی اتحاد نے 5 گھنٹے 45 منٹ جبکہ اپوزیشن نے 4 گھنٹے 19 منٹ بحث میں حصہ لیا۔
آئینی ترمیم کی منظوری کے روز ایوان میں 296 ارکان موجود تھے اور حاضری 91 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ اسی اجلاس کے دوران پرائیویٹائزیشن کمیشن ترمیمی بل، پاکستان آرمی ترمیمی بل، پاکستان ایئر فورس ترمیمی بل، پاکستان نیوی ترمیمی بل، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل اور گھریلو تشدد بل 2024 بھی منظور کیے گئے۔ قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ پانچ بل ایک ہی روز پیش اور منظور کیے گئے۔
سال 2025 میں حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے 41 بلز قومی اسمبلی سے منظور ہوئے، جن میں پاکستان اقلیتی کمیشن بل، پیکا ترمیمی بل، سول کورٹ ترمیمی بل، امیگریشن ترمیمی بل، انسانی اسمگلنگ ترمیمی بل، پاکستانی شہریت ترمیمی بل، انکم ٹیکس ترمیمی بل، کرمنل لاء ترمیمی بل، پیٹرولیم ترمیمی بل اور قانون شہادت ترمیمی بل شامل ہیں۔
اس کے علاوہ اراکینِ پارلیمنٹ کی جانب سے پیش کیے گئے 12 نجی بلز بھی منظور کیے گئے، جن میں اراکینِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات میں ترمیم، اسلام آباد میں کم عمری کی شادی کی روک تھام کے لیے سخت قوانین، تیزاب گردی اور جلانے کے جرائم کے خلاف سخت قانونی کارروائی سے متعلق بلز شامل ہیں۔
آئینی ترامیم کے دوران ایوانِ بالا میں حکومتی ارکان کے ساتھ اے این پی کے سینیٹرز، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سیف اللہ ابڑو اور جے یو آئی (ف) کے احمد خان نے بھی بل کی حمایت کی۔ اپوزیشن نے تقریباً تمام قانون سازی کی مخالفت کرتے ہوئے احتجاج، واک آؤٹ اور کورم کی نشاندہی جیسے حربے استعمال کیے، تاہم حکومت نے اپنی عددی اکثریت کو بروئے کار لاتے ہوئے قانون سازی کا عمل جاری رکھا۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کی نااہلی کے بعد طویل عرصے تک اپوزیشن لیڈر کی عدم موجودگی میں اجلاس منعقد ہوتے رہے، تاہم اپوزیشن نیا لیڈر نامزد کرنے میں ناکام رہی۔