رحیم یار خان میں کماد  کی کاشت کپاس پر کیسے حاوی ہوگئی ؟

عصر حاضر کے  زرعی ارتقاء سے ملکی معاشی  منظر کشی میں تبدیلی

میاں زبیر احمد

5 جنوری ، 2026 ( واج فیچر )

معاشی بنیادوں میں  زراعت کی شامل  رکھنے والے ہمارے ملک پاکستان میں عصر حاضر میں زرعی ارتقاء کا جو عمل جنوبی پنجاب میں اور بالخصوص اسکے ضلع رحیمیار خان میں رونما ہوا ہے ، وہ ملکی اقتصایات  میں واضح تبدیلی کی منظر کشی کررہا ہے ۔ زرعی پیداوار کے اعتبار سے رحیمیار خان پنجاب کا بڑا پیداواری ضلع ہے جو گندم، کپاس اورگنا / کماد پیدا کرنے والے سرفہرست اضلاع میں شامل ہے۔ سرپلس گندم یعنی اپنی ضرورت سے زیادہ گندم یعنی ٹریڈ ایبل سرپلس پیدا وار  کے اعتبار سے رحیم یار خان  پہلے تین اضلاع میں شامل ہے ۔ سال 2005 میں رحیمیار خان کے تقریباً  6 لاکھ نوے ہزار، ایکڑ  رقبے پر کاشت کی گئی۔ اس وسیع زرعی رقبے سے مجموعی طور پر تقریباً 9لاکھ54  ہزار ٹن گندم پیدا ہوئی ۔ 2024-25میں ضلع میں کپاس کی کاشت 5 لاکھ 64 ہزار ایکڑ پر ہوئی۔ کپاس کی کاشت میں پنجاب میں بہاولنگر اور بہاولپور کے بعد  رحیمیار خان کا نمبر تیسرا  ہو گیا ہے ۔  کچھ برس پہلے رحیمیار خان میں 8 لاکھ ایکڑ سے بھی زائد رقبے پر کپاس کاشت ہوتی تھی مگر پچھلی دو دہائیوں سے کماد یعنی گنے نے چپکے چپکے اس ضلع میں ایسی جگہ بنا لی ہے کہ اب یہ ضلع شوگر فیکٹریوں کی تعداد اور چینی کی پیداوار کے اعتبار سے بھی پنجاب کے بڑے اضلاع میں شمار ہونے لگا ہے ۔

2024-25کے سرکاری اعداد  و شمار کے مطابق سال ضلع میں میں 5 لاکھ 08 ہزارایکڑ رقبے پر کماد کی کاشت ہوئی ۔ یہ نہ صرف یہ کہ کسی ایک ضلع کی سب سے بڑی فصل ہے بلکہ پورے صوبے کی کل کاشت کا پانچواں حصہ بھی ہے یعنی پنجاب میں گنے کا ہرپانچواں کھیت رحیم یار خان ضلع ہے۔  رحیمیار خان رقبے کے اعتبار سے ایک بڑا ضلع ہے مگر کماد کی کاشت کو اپنانے میں جو تیزی ضلع نے دکھائی ہے وہ بے مثال ہے۔ اس کا اندازہ ا س سے لگائیں کہ فیصل آباد جو گنے کی کاشت کے اعتبار سے پنجاب کا دوسرا بڑا ضلع ہے، اس میں کل زیر کاشت رقبہ 1 لاکھ 96 ہزار ایکڑ ہے جو رحیمیار خان کے نصف کے برابر بھی نہیں آتا۔

کماد اور کپاس خریف کی فصلیں ہیں تو کیا رحیمیار خان میں کماد کپاس کی جگہ لے رہا ہے؟ آنکڑے یہی بتاتے ہیں مگر بات اتنی سادہ نہیں ہے۔

کپاس کی فصل کو خشک گرمی کا موسم چاہیے جبکہ کماد مچھلی کی طرح پانی کی مخلوق ہے۔ کپاس اگانا مہنگا کام ہے جبکہ گنا اگانا نسبتا سستا۔ پنجاب بھر میں کماد دریاؤں کے آس پاس کے زمینوں پر زیادہ کامیاب ہے کیونکہ زیرزمین پانی آسانی سے دستیاب ہوتا ہے اور کماد کو بڑھوتری کے لیے قدرتی ماحول میسر آتا ہے۔ شوگر انڈسٹری نے رحیمیار کے کچے کے علاقے کا انتخاب شاید اسی مقصد کے لیے کیا تھا۔ ابتدا میں شوگر ملز کے لیے کماد ضلع کے غیرنہری علاقوں کچے کے علاقوں میں کاشت  ہوا۔ کماد نے نہ صرف زرعی معیشت تبدیل کی بلکہ ضلع کی سماجی معیشت اور سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔

کچا اور پکا علاقہ ہیں  کیا؟

رحیمیار خان میں ایک لمبوتری پٹی چولستان کی ہے جہاں مویشی پال مسلم اور ہندو اقوام بستی ہیں۔ چولستان  کے متوازی ایک پٹی نہری علاقوں کی ہے جہاں زراعت ہوتی ہے۔ یہاں زیادہ ترپنجابی آبادکار زراعت کرتے ہیں جبکہ دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ غیر نہری علاقے کو کچے کا علاقہ کہا جاتا ہے جہاں سرائیکی بولنے والی اقوام اور قبائل بستے ہیں۔ رحیمیارخان کے کچے کے  علاقے میں  1990 کی دہائی تک سڑکیں ناپید تھیں، بجلی کا نظام موجود نہیں تھا، ذرائع رسل و رسائل محدود تھے – اس وقت کچے کے علاقے میں جو بھی کسان کپاس کی فصل لگاتے تھے وہ ملٹی نیشنل پیسٹی سائیڈ کمپنیوں کی ڈیلروں اور کھاد اور ڈیزل کے اخراجات میں پھنسے ہوئے تھے – معاشی حالات بدتر تھے –

1997 میں رحیمیارخان کے علاقہ جمالدین والی میں   شوگر ملزکے لگنے سے ایک معاشی بدلاؤ آیا – شوگر ملز نے کاشتکاروں کو کھاد اور بیج آسان اقساط  پر فراہم    کیا – سڑکوں کا جال بچھایا، بجلی کے نظام کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ٹربائن لگائیں – غیر آباد زمینیں جن پر صرف دیسی مٹر کی فصل ہوتی تھی انکو ٹھیکے پر لیکر لیولنگ کی اور اب اس میں گنے کی فصل اگائی جاتی ہے ۔

گنے کی کاشت نے کچے کے کسان کی آمدن میں نمایاں اضافہ کیاہے ۔ جہاں کپاس کی فصل میں ایک ایکڑ سے حاصل ہونے والی آمدن اکثر اخراجات بھی پورے نہیں کر پاتی تھی، وہیں گنے کی فصل نے کسان کو نسبتاً مستحکم اور پیشگی معلوم آمدن فراہم کی۔ ماہرین کے مطابق جنوبی پنجاب میں گنے کی فصل سے فی ایکڑ آمدن کپاس کے مقابلے میں 25 سے 30 فیصد زیادہ رہی ہے، خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں شوگر مل قریب واقع ہو۔

اس معاشی بہتری کے سماجی اثرات بھی نمایاں ہیں۔ کچے کے وہ کسان جو کبھی بنیادی سہولیات سے محروم تھے، آج ایک نئی مڈل کلاس کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان کے بچے نجی سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ کئی خاندانوں نے شہروں میں گھر بنائے یا کاروبار شروع کیے، جس سے دیہی اور شہری زندگی کے درمیان فاصلہ کم ہوا۔

چینی کی صنعت  کا جنوبی علاقوں تک پھیلاؤ

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں اب تقریباً  20لاکھ ایکڑ قبے پر گنے کی کاشت ہوتی ہے اور  گنے کی سالانہ صوبائی پیداوار پیداوار 6 کروڑ ٹن کے قریب ہے ۔ جنوبی پنجاب، خصوصاً رحیم یار خان، راجن پور اور مظفرگڑھ کے اضلاع، اس پیداوار میں نمایاں حصہ رکھتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق جنوبی پنجاب میں گزشتہ دو دہائیوں میں گنے کے زیرِ کاشت رقبے میں 35 سے 40 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ شوگر ملز کا قیام اور ان سے جڑی سہولیات ہیں۔ اس سے پہلے شوگر انڈسٹری فیصل آباد ڈویژن میں زیادہ مرتکز تھی۔

گنے کی فصل نے پاکستان کی زرعی معیشت میں ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے۔ پاکستان دنیا میں گنے کی پیداوار اور زیرِ کاشت رقبے کے اعتبار سے چوتھا بڑا ملک بن چکا ہے، اور پنجاب میں گنے کی اوسط فی ایکڑ پیداوار 800 من سے زائد ریکارڈ کی جا رہی ہے، جو عالمی اوسط 705 من سے بھی بہتر ہے۔  قومی معیشت میں کماد کا حصہ تقریباً 0.8 فیصد ہے۔

کپاس  کا زوال

  ایک وقت میں پاکستان کا سب سے بڑا کپاس پیدا کرنے والا ضلع رحیم یار خان تھا، جہاں کپاس تقریباً 8 لاکھ ایکڑ پر کاشت ہوتی تھی اور اسکی 13 سے 14 لاکھ گانٹھیں پیدا ہوتی تھیں ۔ اب زمینی حقیقت یہ ہے کہ شوگر ملز کی تعداد اور گنے کی کاشت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس سے فصلوں کے زوننگ اصولوں کی خلاف ورزی بھی بڑھ گئی ہے۔  تقریباً ملک کی 40فیصد شوگر کین کرشنگ  کی صلاحیت صرف رحیم یار خان اور اس کے بارڈر بیلٹ میں ہے، جو روایتی کپاس کے خطے کی شناخت بدل رہی ہے ۔ ضلع رحیم یار خان کی حدود کے اندر جمالدین والی (جے ڈی ڈبلیو) شوگر ملز کے دو بڑے یونٹ اور سندھ بارڈر پر بھی دو بڑے یونٹ ہیں – مخدوم خسرو بختیار کی آر وائی کے شوگر ملز، اتحاد شوگر ملز، کسان گھی والوں کی حمزہ شوگر ملز خان پور، شریف برادران کی چوہدری شوگر بیک وقت کام کر رہی ہیں –

 کپاس کی کاشت اور پیداوار میں کمی

2015 میں پاکستان میں ایک کروڑ پچاس لاکھ بیلز سے زائد کپاس پیدا ہوتی تھی، اس کے بعد آنے والے بتدریج زوال سے صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ 2024 میں یہ پیداوار 55 لاکھ بیلز تک محدود ہو گئی ہے ۔ اس طرح کپاس کی پیداواری صلاحیت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ گزشتہ دس برسوں کے قومی سطح کے اعداد و شمار سے موازنہ کیا جائے تو یہ کمی تقریباً 65 فیصد بنتی ہے ۔

ماہرین کے مطابق اس کمی کی ایک بڑی وجہ گنے کی کاشت کا نسبتاً زیادہ منافع بخش ہونا ہے۔ شوگر ملوں کی قربت اور ان کی تعداد میں اضافے نے کسانوں کو گنے کی طرف مائل کیا، جبکہ بعض علاقوں میں کاشتکاروں نے چاول، مکئی اور دیگر متبادل فصلوں کی جانب بھی رخ کیا۔

جنوبی پنجاب میں گنے کی کاشت 7 گنا  بڑھ گئی ،  کپاس میں 40 فیصد کمی

ایک تحقیق کے مطابق 2023 تک جنوبی پنجاب میں گنے کی کاشت میں تقریبا سات گنا  اضافہ جبکہ کپاس کے رقبے میں 40 فیصد کمی واقع ہو گئی تھی۔ یہ عمل ابھی تک جاری و ساری ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق صرف بہاولپور ڈویژن میں 2024 کے مقابلے میں 2025 میں کپاس کی  کاشت میں 13 فیصد کی کمی جبکہ گنے کی کاشت میں چھ فیصد اضافہ ہوا۔

رحیم یار خان اور جنوبی پنجاب میں گنے کی کاشت اور شوگر ملز کی توسیع نے کپاس کی کاشت کو بہت متاثر کیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کپاس کے رقبے میں مستقل کمی، پیداواری صلاحیت میں کمی، پنجاب کا روایتی کپاس کا حصہ کم ہونا اور یہ سب کچھ کپاس کی ملکی مصنوعات اور ٹیکسٹائل صنعت پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔

5
Show Comments (0) Hide Comments (0)
1 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x