اسلام آباد: ملک میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران غذائی عدم تحفظ کی صورتحال تشویشناک حد تک بگڑ گئی ہے۔ ادارہ شماریات پاکستان کی تازہ رپورٹ کے مطابق غذائی عدم تحفظ کی مجموعی شرح میں 113 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو معاشی دباؤ، مہنگائی اور آمدن میں جمود کی واضح عکاسی کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق انتہائی درجے کے غذائی عدم تحفظ کی شرح 2.37 فیصد سے بڑھ کر 5.04 فیصد ہو گئی ہے، جبکہ اوسط درجے کے غذائی عدم تحفظ میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو 15.92 فیصد سے بڑھ کر 24.35 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔
شہری علاقوں میں صورتحال زیادہ سنگین
اعداد و شمار کے مطابق غذائی عدم تحفظ کا سب سے زیادہ دباؤ شہری آبادی پر پڑا ہے۔ شہری علاقوں میں اوسط درجے کے غذائی عدم تحفظ میں 123 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد شہری علاقوں میں مجموعی غذائی عدم تحفظ کی شرح 9.22 فیصد سے بڑھ کر 20.58 فیصد ہو گئی ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ شہروں میں شدید درجے کے غذائی عدم تحفظ کی شرح میں 313 فیصد تک اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں یہ شرح 5.12 فیصد تک جا پہنچی ہے، جو نہایت تشویشناک رجحان ہے۔
دیہی علاقوں میں بھی اضافہ، مگر رفتار نسبتاً کم
دیہی علاقوں میں بھی غذائی عدم تحفظ میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم اس کی رفتار شہری علاقوں کے مقابلے میں کم رہی۔ رپورٹ کے مطابق دیہات میں اوسط درجے کے غذائی عدم تحفظ کی شرح میں 34 فیصد اضافہ ہوا اور یہ شرح پانچ سال میں 19.96 فیصد سے بڑھ کر 26.72 فیصد تک پہنچ گئی۔
اسی طرح دیہی علاقوں میں شدید درجے کے غذائی عدم تحفظ میں 64 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
صوبائی صورتحال
صوبائی سطح پر اوسط درجے کے غذائی عدم تحفظ میں بلوچستان سرفہرست ہے، جبکہ سندھ دوسرے نمبر پر موجود ہے۔
ادارہ شماریات کے مطابق خیبرپختونخواہ میں شدید درجے کے غذائی عدم تحفظ کی شرح 1.38 فیصد جبکہ اوسط درجے کی شرح 21.53 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر مہنگائی پر قابو، روزگار کے مواقع میں اضافہ اور غذائی تحفظ کے مؤثر پروگرام فوری طور پر متعارف نہ کرائے گئے تو آنے والے برسوں میں غذائی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔