لاہور۔۔۔پاکستان ٹیم کی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) ورلڈ کپ کی کٹ کی رونمائی منسوخ کر دی گئی۔ذرائع کے مطابق کٹ کی رونمائی ہفتہ کو آسٹریلیا کیخلاف دوسرے ٹی 20 انٹرنیشنل میچ کے ٹاس کے بعد ہونا تھی۔ٹی 20 ورلڈ کپ کٹ کی رونمائی ناگزیر وجوہات کی بنیاد پر منسوخ کی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تاحال ورلڈ کپ میں پاکستان کی شرکت یا بائیکاٹ کا فیصلہ نہ ہونا بھی منسوخی کا سبب ہو سکتا ہے۔واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے کہا تھا کہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں شرکت کا حتمی فیصلہ جمعہ یا پیر کو کیا جائے گا۔ دوسری جانب ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل انٹرنیشنل کرکٹ کو نسل(آئی سی سی )اور عالمی کھلاڑیوں کی تنظیم ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن(ڈبلیو سی اے)کے درمیان کھلاڑیوں کے حقوق پر نیا تنازع پیدا ہو گیا ۔مسئلہ بنیادی طور پر نام، تصویر اور مماثلت (این آئی ایل ) کے حقوق، اور دیگر کمرشل و ڈیٹا سے متعلق شرائط پر ہے۔ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن کا دعوی ہے کہ آئی سی سی نے کئی ممالک کے کھلاڑیوں کو جو اسکواڈ پارٹیسپیشن ٹرمز بھیجے ہیں، وہ 2024 میں دونوں تنظیموں کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے مطابق نہیں ہیں۔ ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن نے کہا کہ نئی غیر منظور شدہ شرائط کھلاڑیوں کے لئے استحصالی نوعیت کی ہیں اور ان کے حقوق کمزور کرتی ہیں۔آئی سی سی نے اپنے جواب میں موقف اختیار کیا کہ 2024 کا معاہدہ صرف آٹھ ممبر بورڈز (آسٹریلیا، انگلینڈ، نیوزی لینڈ، ساتھ افریقہ، ویسٹ انڈیز، آئرلینڈ، نیدرلینڈز اور اسکاٹ لینڈ) پر لاگو ہوتا ہے، جبکہ باقی بورڈز اس کے پابند نہیں۔ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق، معاہدہ تمام باڈی سے منسلک کھلاڑیوں کے لیے قانونی طور پر لازم ہے چاہے وہ اس ورلڈ کپ میں کھیل رہے ہوں یا نہیں۔ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن کے سی ای او ٹام موفات نے کھلاڑیوں کو بھیجے گئے میمو میں آئی سی سی اور 2024 معاہدے کے درمیان آٹھ اہم اختلافات کی نشاندہی کی، جن میں میڈیا شوز، کمرے تک رسائی، کھلاڑی کا ڈیٹا، لائسنسنگ، این آئی ایل حقوق اور ڈسپیوٹ ریزولوشن شامل ہیں۔موفات کے مطابق آئی سی سی کی شرائط میں کھلاڑیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی این آئی ایل کسی بھی تیسرے فریق کو لائسنس کریں، اور قومی بورڈ ہر استعمال کی منظوری دے۔ جبکہ 2024 کے معاہدے میں یہ حقوق محدود تھے اور ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن کے ذریعے کھلاڑی اپنی شرائط طے کر سکتے تھے۔ڈیٹا کے استعمال میں بھی واضح فرق ہے: آئی سی سی کے ورژن کے مطابق بورڈ کی اجازت سے ڈیٹا کمرشلائز کیا جا سکتا ہے، جبکہ 2024 کے معاہدے میں کھلاڑی خود ڈیٹا کے مالک ہیں اور ان کی منظوری ضروری ہے۔ مزید برآں،آئی سی سی کے ورژن میں کھلاڑی شرائط پر دستخط کیے بغیر بھی شرائط قبول شدہ سمجھے جائیں گے، جب کہ 2024 معاہدے میں ہر ایونٹ کے لئے الگ دستخط ضروری ہیں۔موفات نے کہا کہ آئی سی سی اور ممبر بورڈز نے جان بوجھ کر 2024 کے تحفظات ہٹا دیے اور کھلاڑیوں کی کمزور اور کم معاوضہ والی گروپس کو غیر منظور شدہ شرائط کے تحت کھیلنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن نے کھلاڑیوں کے حقوق کی حفاظت کے لئے 2024 معاہدے کی پاسداری کا مطالبہ کیا ہے۔ ادھر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) نے مینز ٹی20 ورلڈکپ کیلئے آفیشل ترانہ ”فیل دی تھرل” جاری کر دیا ، جو شائقین کے لئے جوش و خروش بڑھانے کا مقصد رکھتا ہے۔ ترانے میں پاکستان کے اسٹار فاسٹ بالرز نسیم شاہ اور شاہین آفریدی بھی دکھائے گئے ہیں، جو اپنی کارکردگی سے ٹیم کے لئے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس آفیشل ترانے میں پاکستان کی کرکٹ کی یادگار لمحات، بشمول 2009 میں عالمی چیمپئن بننے کے مناظر بھی شامل کیے گئے ہیں، جس سے شائقین کو ماضی کی کامیابیوں کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ آئی سی سی کا کہنا ہے کہ یہ ترانہ نہ صرف کرکٹرز بلکہ شائقین کے جذبے کو بھی بڑھانے کے لئے بنایا گیا ہے اور میچز کے دوران اس کا استعمال کرکٹ کے ماحول کو مزید پرجوش بنانے کیلئے کیا جائے گا۔ ترانے کی ریلیز کے بعد کرکٹ شائقین اور ٹیم ممبران نے سوشل میڈیا پر اپنی خوشی اورجوش کا اظہار کیا جبکہ نوجوان کرکٹ فینز خاص طور پراس ترانے کے ساتھ اپنی حوصلہ افزائی محسوس کررہے ہیں۔
قومی ٹیم کی آئی سی سی ورلڈکپ کٹ کی رونمائی منسوخ
-
By Abdul Jabbar
- January 31, 2026
Show Comments (0)
Hide Comments (0)
0
0
votes
Article Rating
Subscribe
Login
0 Comments
Oldest
Newest
Most Voted