نثاراحمد
لاہور۔۔۔مون سون کے موسم میں بھارت کی جانب سے سیلابی معلومات اور اپنے ڈیموں سے پانی چھوڑنے کی تفصیلات بروقت فراہم نہ کرنا پاکستان کی سیلابی انتظام کاری کی کوششوں کو متاثر کر رہا ہے اور سرحد پار دریاں سے متعلق عالمی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کے حوالے سے خدشات پیدا کر رہا ہے۔سندھ طاس واٹر کمشنر سید مہر علی شاہ کے مطابق بھارت نے مقبوضہ جموں میں واقع سالال ڈیم کے دروازے حالیہ کھولنے کے بارے میں پاکستان کو کبھی آگاہ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی بھارت کی جانب سے عالمی قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں کا معاملہ ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت میں اٹھا چکا ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان نے عدالت کو بھارت کی جانب سے پانی کو دبا کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرنے کے معاملے سے مکمل طور پر آگاہ کر دیا ہے۔بھارت نے گزشتہ سال اپریل میں یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ معاہدہ 1960 میں طے پایا تھا اور دو بڑی جنگوں اور 1999 کی کارگل جنگ کے باوجود چھ دہائیوں سے زائد عرصے تک نافذ رہا ہے۔تاہم رواں سال مئی میں مستقل ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل قانونی حیثیت کی توثیق کرتے ہوئے فیصلہ دیا کہ بھارت اسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے لیے قانونی طور پر پابند ہے اور اس مقف کو مسترد کر دیا کہ کوئی بھی فریق دوسرے کی رضامندی کے بغیر معاہدے سے الگ ہو سکتا ہے یا اسے معطل کر سکتا ہے۔سابق سندھ طاس کمشنر سید جماعت علی شاہ نے کہا کہ پاکستان کو چاہیے کہ سیلاب سے متعلق معلومات فراہم نہ کرنے کے ہر واقعے کو باقاعدہ طور پر بھارتی آبی کمشنر کے دفتر کے سامنے اٹھائے تاکہ معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں کا مکمل ریکارڈ تیار کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سیلاب کی پیش گوئی بہتر بنانے اور بروقت انتباہ جاری کرنے کے لیے تاریخی سیلابی اعداد و شمار سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کے سیلابی پیش گوئی کے ماہرین اس خطے کے تاریخی سیلابی اعداد و شمار کو بہتر انداز میں استعمال کریں۔ اس سے پیش گوئیوں کی درستگی بہتر ہو سکتی ہے اور بروقت انتباہ جاری کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔جماعت علی شاہ نے کہا کہ پاکستان بندوں اور حفاظتی پشتوں کو مضبوط بنا کر سیلاب سے پہلے معائنے بہتر کر کے اور دیگر حفاظتی اقدامات میں اضافہ کر کے سیلابی نقصانات کو کم کر سکتا ہے۔انہوں نے کہاایسا لگتا ہے کہ کم از کم فی الحال بھارت اپنے مقف میں تبدیلی نہیں لانے والا۔ ہمیں بدلتی ہوئی صورتحال کے مطابق اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا ہوگی۔انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان محکمہ موسمیات کو مقبوضہ کشمیر اور شمالی بھارت میں مغربی اور مشرقی دریاں کے پانی جمع ہونے والے علاقوں کے بارے میں وسیع معلومات حاصل ہیں۔ان کے مطابق پاکستان محکمہ موسمیات عالمی موسمیاتی ادارے کے تعاون سے ان علاقوں میں بارش کے اعداد و شمار حاصل کر سکتا ہے، جس سے شدید موسمی حالات سے پہلے پانی کے بہا کا اندازہ لگانے میں مدد مل سکتی ہے۔۔۔۔