نثاراحمد
اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک پکس کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق جولائی میں عسکری تشدد میں اضافے اور سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں شدت کے نتیجے میں سیکیورٹی اہلکاروں اور عسکریت پسندوں کی شہادتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔
پکس کے مطابق جولائی میں کم از کم 112 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، جو جنوری 2023ء کے بعد کسی بھی مہینے میں سب سے زیادہ اور گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں دوسرا سب سے بڑا Toll ہے۔ جنوری 2023ء میں 114 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے تھے، جن میں سے تقریباً 102 اہلکار پشاور پولیس لائنز میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہوئے تھے۔رپورٹ کے مطابق جولائی میں 401 عسکریت پسند ہلاک ہوئے، جو گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں کسی بھی مہینے میں ریکارڈ کی گئی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ اس مہینے میں 74 شہری اور امن کمیٹیوں کے 19 ارکان بھی ہلاک ہوئے۔ امن کمیٹیوں کے ارکان کی ہلاکتیں بھی گزشتہ دہائی میں کسی بھی مہینے میں سب سے زیادہ ہیں۔
پکس کے اعدادوشمار کے مطابق جولائی میں زخمی ہونے والے 232 افراد میں 101 سیکیورٹی اہلکار، 103 شہری، امن کمیٹیوں کے 14 ارکان اور 14 عسکریت پسند شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جون کے مقابلے میں جولائی میں سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں میں 195 فیصد اضافہ ہوا، جو 38 سے بڑھ کر 112 ہو گئیں۔ عسکریت پسندوں کی ہلاکتوں میں 109 فیصد اضافہ ہوا ،جبکہ شہری ہلاکتوں میں 21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ادارے نے جولائی میں کم از کم آٹھ خودکش حملے ریکارڈ کیے، جن میں پانچ گاڑی بردار خودکش حملے شامل ہیں۔ پکس کے مطابق یہ گزشتہ ایک دہائی میں کسی بھی مہینے میں ریکارڈ کیے گئے سب سے زیادہ خودکش حملے ہیں۔
اسی طرح اغوا کے واقعات میں بھی دوگنا اضافہ ہوا، جو جون میں 33 سے بڑھ کر جولائی میں 66 ہو گئے۔رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی صورتحال میں سب سے زیادہ بگاڑ بلوچستان میں دیکھا گیا، جہاں مجموعی اموات میں 241 فیصد اضافہ ہوا اور جون کے 109 سے بڑھ کر جولائی میں 372 ہو گئیں۔ رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتیں جون کے 6 سے بڑھ کر جولائی میں 62 ہو گئیں، جو 933 فیصد اضافہ ہے۔ عسکریت پسندوں کی ہلاکتیں 75 سے 238 تک پہنچ گئیں، جبکہ شہری اموات میں 93 فیصد اضافہ ہوا۔ صوبے میں امن کمیٹیوں کے 18 ارکان بھی ہلاک ہوئے۔رپورٹ کے مطابق
خیبر پختونخوا ضم شدہ اضلاع کے علاوہ میں جولائی میں 154 اموات ریکارڈ کی گئیں، جو جون کے 75 کے مقابلے میں 105 فیصد زیادہ ہیں۔ زخمیوں کی تعداد 60 سے بڑھ کر 98 ہو گئی۔
رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتیں 12 سے 38 ہو گئیں، جبکہ عسکریت پسندوں کی ہلاکتوں میں 192 فیصد اضافہ ہوا ہے تاہم شہری اموات میں 73 فیصد کمی ہوئی، جو جون کے 26 سے کم ہو کر 7 رہ گئیں۔ صوبے میں امن کمیٹی کے ایک رکن بھی ہلاک ہوئے۔پکس کے اعدادوشمار کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع (سابقہ فاٹا) میں مجموعی اموات میں معمولی کمی دیکھی گئی۔ جولائی میں یہاں 79 اموات ہوئیں، جو جون میں 85 تھیں۔ زخمیوں کی تعداد میں 37 فیصد کمی ہوئی ہے سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتیں 6 سے 11 ہو گئیں، جبکہ عسکریت پسندوں کی ہلاکتوں میں 24 فیصد کمی جبکہ شہری اموات میں 86 فیصد اضافہ ہوا ہے
سندھ میں دو عسکری حملے ریکارڈ کیے، جن میں ایک سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ جون میں صوبے میں 12 اموات ہوئی تھیں۔ سیکیورٹی فورسز نے سندھ میں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں چھ مشتبہ عسکریت پسندوں کو گرفتار بھی کیا۔رپورٹ کے مطابق پنجاب، اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں جولائی کے دوران کوئی عسکری تشدد ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ تاہم پنجاب میں سیکیورٹی فورسز نے تین مشتبہ عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا۔ پکس کے اعدادوشمار کے مطابق 2026ء کے پہلے سات ماہ میں عسکری تشدد اور انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کے نتیجے میں 2,786 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 1,857 عسکریت پسند، 463 شہری، 434 سیکیورٹی اہلکار اور امن کمیٹیوں کے 32 ارکان شامل ہیں۔ سیکیورٹی اہلکاروں کی ماہانہ اوسط اموات 2025ء میں 56 سے بڑھ کر 2026ء میں 62 ہو گئیں، شہری اموات کی اوسط 48 سے 66 اور عسکریت پسندوں کی اوسط اموات 178 سے 265 فی ماہ ہو گئیں۔