علیمہ خان کا پارٹی قیادت کو دوٹوک پیغام: ‘مذاکرات کی بات کرنے والے عمران خان کے حقیقی ساتھی نہیں’

راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے پارٹی کے ان رہنماؤں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو حکومت کے ساتھ مذاکرات کی وکالت کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو لیڈرز اس وقت مذاکرات کی بات کرتے ہیں، وہ نہ تو عمران خان کے مؤقف کے ساتھ ہیں اور نہ ہی ان کے حقیقی وفادار ساتھی ہیں۔

عدالتی نظام اور مقدمات پر تحفظات

علیمہ خان نے ملک میں انصاف کی صورتحال پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

  • توشہ خانہ کیس: انہوں نے توشہ خانہ کیس کو مکمل طور پر “بوگس” قرار دیا اور کہا کہ مریم نواز کے توشہ خانہ کیس کا آج تک جواب نہیں دیا گیا، جبکہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو صرف ہار کی قیمت کے مبینہ الزام پر 17 سال قید سنائی گئی۔
  • جھوٹی گواہی: انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس اہلکاروں کو دباؤ میں لا کر جھوٹی گواہیاں دلوائی جا رہی ہیں اور مطالبہ کیا کہ جھوٹی گواہی دینے والوں کو بھی سزا ہونی چاہیے۔
  • ججز کا کردار: علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عدلیہ میں اچھے ججز موجود ہیں لیکن انہیں دبایا جاتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جو ججز غلط فیصلے دے کر باہر جانے کی تیاری میں ہیں، قوم ان کے نام یاد رکھے گی۔

عمران خان کا پیغام اور اسٹریٹ موومنٹ

علیمہ خان نے بانی پی ٹی آئی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے بتایا:

  • ڈھائی سال کی قید: عمران خان کو بیرون ملک جانے کی پیشکشیں ہوئیں لیکن انہوں نے ہمیشہ مقدمات کا سامنا کرنے کو ترجیح دی۔
  • خیبرپختونخوا قیادت کو پیغام: عمران خان نے کے پی کی قیادت کو اسٹریٹ موومنٹ (عوامی تحریک) شروع کرنے کا پیغام بھیجا ہے، کیونکہ وہ ملک کی 90 فیصد آبادی کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ بانی پی ٹی آئی کا پیغام میڈیا تک پہنچاتی رہیں گی اور اس حوالے سے میڈیا کے نمائندوں کو بطور گواہ بھی پیش کریں گی۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x