وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن اینڈ براڈ کاسٹ کے اجلاس میں سرکاری ٹی وی (پی ٹی وی) کے حوالے سے کئی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں سیاسی بھرتیوں اور من پسند افراد کو نوازنے کی وجہ سے ادارے کا بیڑا غرق کیا گیا، یہاں تک کہ ایک مالی کو پروڈیوسر کے عہدے پر تعینات کر دیا گیا۔
چیرمین کمیٹی پولین بلوچ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پی ٹی وی ملازمین کی تنخواہوں اور انتظامی ڈھانچے پر تفصیلی بحث ہوئی۔ وزیر اطلاعات نے ادارے میں موجود “مافیا” کے خلاف علمِ بغاوت بلند کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس نظام کو بدلنے کے لیے لڑ رہے ہیں، چاہے انہیں گمنام اکاؤنٹس سے نشانہ بنایا جائے یا دباؤ ڈالا جائے۔
عطا تارڑ کے اہم انکشافات:
- سیاسی اور اقربا پروری کی بھرتیاں: انہوں نے انکشاف کیا کہ ماضی میں وزراء اور بااثر شخصیات نے اپنی بیگمات اور رشتہ داروں کو پی ٹی وی میں بھرتی کرایا۔
- پرچی پر اینکرز کی تعیناتی: سابقہ ادوار میں ایسے اینکرز کو ٹی وی اسکرین پر بٹھایا گیا جنہیں کوئی پہچانتا تک نہیں تھا، صرف “پرچی” اور پسند ناپسند پر بھرتیاں ہوئیں۔
- ایک پوسٹ پر 25 لوگ: وزیر اطلاعات نے بتایا کہ ادارے میں حد سے زیادہ بھرتیاں کی گئی ہیں، ایک ایک عہدے پر 25 پچیس لوگ کام کر رہے ہیں۔
- گولڈن شیک ہینڈ کی ضرورت: انہوں نے واضح کیا کہ جب تک ملازمین کے لیے ‘گولڈن شیک ہینڈ’ اسکیم نہیں لائی جاتی، ادارہ منافع بخش نہیں بن سکتا۔
مستقبل کا لائحہ عمل
عطا تارڑ نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ موجودہ حکومت میرٹ کی بنیاد پر اصلاحات لا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انگلش نیوز چینل کو ایک نئے فنانشل ماڈل کے تحت شروع کیا گیا ہے تاکہ عالمی سطح پر پاکستان کا بیانیہ بہتر انداز میں پہنچایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں احساس ہوا کہ جنگ اور عالمی تنازعات کے دوران ہمارے پاس ایک مضبوط انگلش میڈیا پلیٹ فارم ہونا لازمی ہے۔