پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان دفاعی تعلقات میں ایک نئے اور اہم باب کا آغاز ہوا ہے۔ بنگلادیشی فضائیہ کے سربراہ نے پاکستان کا سرکاری دورہ کیا، جس کا بنیادی مقصد فضائی بیڑے کی جدید کاری اور جے ایف 17 تھنڈر (JF-17 Thunder) لڑاکا طیاروں کی ممکنہ خریداری پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔
ملاقات کے اہم نکات اور دفاعی تعاون
پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور بنگلادیشی ایئر چیف کے درمیان ہونے والی ملاقات میں درج ذیل اہم امور پر اتفاق کیا گیا:
- جے ایف 17 تھنڈر کی فراہمی: ملاقات میں بنگلادیش کی جانب سے جے ایف 17 تھنڈر بلاک 3 (Block III) طیاروں کی خریداری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا گیا، جو کہ اپنی جدید الیکٹرانک وارفیئر صلاحیتوں کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہیں۔
- دیکھ بھال اور مرمت (MRO): بنگلادیش نے اپنے موجودہ فضائی بیڑے کی مرمت اور دیکھ بھال کے لیے پاک فضائیہ کے تکنیکی تعاون کی درخواست کی۔
- ریڈار اور سرویلنس سسٹم: بنگلادیشی ایئر ڈیفنس ریڈار سسٹم کو جدید ایئر سرویلنس نیٹ ورک سے منسلک کرنے کے لیے پاکستان تکنیکی معاونت فراہم کرے گا۔
- سپر مشاق طیارے: ایئر چیف نے بنگلادیش کو بنیادی تربیتی طیاروں ‘سپر مشاق’ کی جلد فراہمی کی بھی یقین دہانی کرائی۔
جدید ٹیکنالوجی اور تربیت
بنگلادیشی وفد کو پاک فضائیہ کے ان مراکز کا دورہ بھی کرایا گیا جہاں انہیں درج ذیل شعبوں میں پاکستان کی خود انحصاری پر بریفنگ دی گئی:
- بغیر پائلٹ فضائی نظام (UAVs): ڈرون ٹیکنالوجی میں پاکستان کی پیشرفت۔
- الیکٹرانک وارفیئر: دشمن کے ریڈار اور مواصلاتی نظام کو ناکارہ بنانے کی صلاحیت۔
- ایرو اسپیس انڈسٹری: طیارہ سازی اور ڈیزائننگ کے شعبے میں تعاون۔
پاک فضائیہ کے سربراہ نے بنگلادیشی ہم منصب کو یقین دلایا کہ پاکستان نہ صرف طیارے فراہم کرے گا بلکہ پائلٹس کی تربیت اور طویل مدتی تکنیکی معاونت کا مکمل نظام بھی فراہم کرے گا۔