اسلام آباد، 21 نومبر 2025
مسابقتی کمیشن پاکستان نے ملک کے متعدد بڑے نجی اسکولوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کی ہے کہ وہ والدین کو مخصوص دکانداروں سے مہنگا سامان خریدنے پر کیوں مجبور کر رہے ہیں۔ کمیشن کے مطابق بعض اسکولوں نے اسٹیشنری، ورک بکس، نوٹ بکس، یونیفارم اور دیگر لازمی اشیاء صرف مخصوص دکانوں سے خریدنے کی شرط عائد کر رکھی تھی، جن کی قیمتیں مارکیٹ میں دستیاب متبادل کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ پائی گئیں۔
کمیشن نے بتایا کہ والدین کی جانب سے موصول ہونے والی متعدد شکایات اور ابتدائی تحقیق کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ بعض اسکول لوگو والی اشیاء اور مخصوص پیکج زبردستی بیچے جانے کا طریقہ اپناتے ہیں، جس سے والدین پر غیر ضروری مالی بوجھ پڑتا ہے۔ کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل مسابقت کو محدود کرتا ہے اور چھوٹے اسٹیشنری فروشوں کے کاروبار کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
نوٹس میں متعلقہ اسکولوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 14 دن کے اندر تحریری جواب جمع کرائیں اور اپنے مجاز نمائندے کے ذریعے پیش ہو کر وضاحت دیں کہ والدین کو مخصوص اور مہنگا سامان خریدنے پر مجبور کرنا کس قانونی جواز کے تحت کیا گیا۔ کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ مسابقتی قانون کی خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں اداروں پر بھاری جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں نجی اسکولوں میں پڑھنے والے طلبہ کی تعداد بہت زیادہ ہے، جس کے باعث اس طرح کی پالیسیوں سے نہ صرف والدین بلکہ ہزاروں چھوٹے کاروبار بھی متاثر ہوتے ہیں۔ کمیشن کے مطابق تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ والدین پر مالی دباؤ بڑھانے کے بجائے شفاف، منصفانہ اور قابلِ برداشت طریقہ کار اپنائیں۔
ماہرینِ تعلیم کا کہنا ہے کہ یہ اقدام تعلیمی اداروں میں بڑھتی ہوئی تجارتی روش کے خلاف ایک اہم پیش رفت ہو سکتا ہے اور اس سے مستقبل میں والدین کے حقوق اور تعلیمی اخراجات میں شفافیت کے لیے نئے اصول وضع ہوں گے۔