اسلام آباد۔۔ مسابقی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے اسٹیل سیکٹر میں کارٹلائزیشن اور قیمتوں کے گٹھ جوڑ کے الزامات ثابت ہونے پر دو بڑی اسٹیل کمپنیوں عائشہ اسٹیل ملز اور انٹرنیشنل اسٹیلز لمیٹڈ پر مجموعی طور پر ایک ارب پچاس کروڑ روپے کا بھاری جرمانہ عائد کر دیا۔
کمیشن کے مطابق، دونوں کمپنیوں نے جولائی 2020 سے دسمبر 2023 کے دوران قیمتوں میں گٹھ جوڑ کر کے صارفین کو نقصان پہنچایا اور اسٹیل کی قیمتوں میں مصنوعی اضافہ کیا۔
فیصلے کے مطابق، کارٹل کی وجہ سے تین سال میں قیمتوں میں اوسطاً 111 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جب کہ خام اسٹیل فی ٹن 1 لاکھ 46 ہزار روپے تک مہنگا ہوا۔
کمپٹیشن کمیشن نے بتایا کہ عائشہ اسٹیل ملز پر 64 کروڑ 83 لاکھ روپے اور انٹرنیشنل اسٹیلز لمیٹڈ پر 91 کروڑ 42 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ دونوں کمپنیاں اسٹاک مارکیٹ میں لسٹڈ ہیں اور ان کی مینجمنٹ و چیف ایگزیکٹو افسران گٹھ جوڑ میں براہِ راست ملوث پائے گئے۔
سی سی پی نے کمپنیوں کو 60 دن میں جرمانہ جمع کرانے کی ہدایت دی ہے، بصورت دیگر ہر روز ایک لاکھ روپے یومیہ اضافی جرمانہ عائد کیا جائے گا۔