لاہور: پنجاب کابینہ نے کنزیومر ایکٹ 2005 میں اہم ترمیم کے بعد “قانونِ تحفظِ صارف 2025” کی منظوری دے دی ہے، جو پنجاب کے 34 اضلاع میں نافذ العمل ہوگا۔
قانون کے اہم نکات
نئے قانون کے تحت صارفین کے حقوق کے تحفظ کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے۔
- قانون کی خلاف ورزی پر اب 1 ہزار سے 1 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔
- خلاف ورزی کی صورت میں فوری قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
- شہری اپنی شکایات ضلعی تحفظِ صارف کونسل میں جمع کرا سکیں گے، جو ڈپٹی کمشنرز کی سربراہی میں قائم کی گئی ہے۔
انتظامی ڈھانچہ
ہر ضلع میں قائم کونسل میں
ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز، اسسٹنٹ ڈائریکٹر (لیگل) اور دیگر متعلقہ افسران شامل ہوں گے، جو صارفین کی شکایات پر فوری کارروائی یقینی بنائیں گے۔
آگاہی سیمینار
قانون کے بارے میں عوامی آگاہی بڑھانے کے لیے
پرائس کنٹرول اینڈ کموڈیٹیز ڈیپارٹمنٹ نے چیمبر آف کامرس سیالکوٹ کے تعاون سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا،
جس میں تاجروں، صارف تنظیموں اور ضلعی حکام نے شرکت کی۔
سیمینار میں مقررین نے کہا کہ قانون کا مقصد صارفین کو ناانصافی، مہنگائی، غیر معیاری اشیا اور جعلی کاروباری طریقوں سے تحفظ دینا ہے۔