آرمی، نیوی اور ائر فورس ایکٹس میں بھی ترامیم کی منظوری۔ چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا عہدہ قائم

اسلام آباد ۔۔۔وفاقی کابینہ اور قومی اسمبلی نے تاریخ کی اہم ترین قانون سازی منظور کر لی۔
27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد آئینی عدالت قائم کر دی گئی، جبکہ دفاع سے متعلق تین بڑے قوانین میں بھی ترامیم منظور کر لی گئی۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے قانون سازی کی منظوری دے دی ہے، اور 27ویں آئینی ترمیم پر وہ پوری قوم کو مبارکباد دیتے ہیں۔
ان کے مطابق آئینی عدالت کے قیام کے ساتھ ساتھ آرٹیکل 243 میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزارتِ دفاع سے آنے والی سمریوں کے تحت آرمی ایکٹ، ائرفورس ایکٹ، اور نیوی ایکٹ میں ترامیم پیش کی گئیں، جنہیں ایوان نے کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایوان میں تینوں مسلح افواج سے متعلق بلز پیش کیے۔
پاکستان آرمی (ترمیمی) بل 2025، پاکستان ائرفورس (ترمیمی) بل 2025، اور پاکستان نیوی (ترمیمی) بل 2025 — تینوں کثرتِ رائے سے منظور کر لیے گئے۔

اسی کے ساتھ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر (ترمیمی) بل بھی ایوان نے کثرتِ رائے سے منظور کیا۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے مزید بتایا کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بعد اب آرمی چیف “چیف آف ڈیفنس فورسز” بھی ہوں گے۔
ان کے عہدے کی مدت پانچ سال مقرر کی گئی ہے۔

ترمیم کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ اب وزیرِ اعظم ہی چیف آف ڈیفنس فورسز کی تقرری کریں گے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے کل اپنی تقریر میں ایم کیو ایم کی ترمیم کا ذکر نہیں کیا، تاہم حکومت نے ایم کیو ایم کی ترمیم کو سپورٹ کیا تھا۔
انہوں نے یقین دلایا کہ حلیف جماعتوں سے مشاورت کے بعد یہ معاملہ خوش اسلوبی سے حل کیا جائے گا۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x