بالی ووڈ کے عظیم اداکار دھرمیندر کے انتقال کے بعد ان کی ذاتی زندگی، خصوصاً ہیما مالنی اور پرکاش کور کے ساتھ ان کے تعلقات ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ دھرمیندر نے پہلی شادی 1954 میں محض 19 برس کی عمر میں پرکاش کور سے کی جو مکمل طور پر پنجابی روایات کے مطابق تھی۔ اس شادی سے ان کے چار بچے ہوئے جن میں بیٹے سنی دیول اور بوبی دیول شامل ہیں، جو بھارتی فلم انڈسٹری کے نامور اداکار ہیں، جبکہ بیٹیاں وجیتا اور اجیتا ہمیشہ میڈیا کی چکاچوند سے دور رہیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ دھرمیندر ہیما مالنی کے عشق میں گرفتار ہوئے، تاہم وہ اپنی پہلی بیوی کو طلاق دینے کے خواہشمند نہ تھے۔ بھارتی قانون کے تحت ہندو مرد کو دوسری شادی کی اجازت نہ ہونے کے باعث دھرمیندر اور ہیما نے 1979 میں اسلام قبول کیا اور نئے نام دلاور خان اور عائشہ اختیار کیے۔ دونوں نے 1980 میں شادی کی جس سے ان کی دو بیٹیاں پیدا ہوئیں، ایشا دیول اور اہانہ دیول۔
دھرمیندر کی دوسری شادی نے دنیا بھر میں حیرت پیدا کی مگر پرکاش کور نے اپنے شوہر کا بھرپور ساتھ دیتے ہوئے واضح کیا کہ دھرمیندر نے ہمیشہ دونوں خاندانوں کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے نبھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہیما مالنی کے لیے دھرمیندر کی محبت فطری تھی اور کوئی بھی شخص ان کی شخصیت سے متاثر ہو سکتا تھا، مگر اس کے باوجود وہ اپنے خاندان کے لیے وفادار اور مضبوط سہارا ثابت ہوئے۔ دھرمیندر اور پرکاش کور کی شادی 71 برس پر محیط رہی جس میں پرکاش نے ہمیشہ ان کا حوصلہ بڑھانے کا کردار ادا کیا۔
دھرمیندر نے بھارتی فلم انڈسٹری کو بے شمار یادگار کردار دیے جن میں “پھول اور پتھر”، “میرا گاؤں میرا دیس”، “یادوں کی بارات”، “رشمی کی ڈوری” اور “شعلے” جیسی لازوال فلمیں شامل ہیں۔ وہ 89 برس کی عمر میں ممبئی میں مختصر علالت کے بعد انتقال کر گئے، مگر ان کی فنکاری، وقار اور انسانیت ہمیشہ زندہ رہیں گے۔