پاکستان میں خواتین کے خلاف ڈیجیٹل تشدد میں سنگین اضافہ

اسلام آباد۔۔ پاکستان میں خواتین کے خلاف ڈیجیٹل تشدد کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو گیا۔۔۔ہیومن رائٹس سیل کے حکام کاقومی اسمبلی کی جینڈر مین اسٹریمنگ کمیٹی میں انکشاف۔ خواتین صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو بھی منظم ٹرولنگ اور سائبر اسٹاکنگ جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔۔

قومی اسمبلی کی جینڈر مین اسٹریمنگ کمیٹی کا اجلاس چیئرپرسن نفیسہ شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ڈیجیٹل لینڈ اسکیپ اور خواتین کو درپیش آن لائن خطرات پر غور کیا گیا۔ ہیومن رائٹس سیل کے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ حکام کے مطابق خواتین کو آن لائن ڈیپ فیک ویڈیوز، نفرت انگیز مہمات، کردار کشی اور ریپ کی دھمکیوں کا سامنا ہے، جب کہ رضامندی کے بغیر نجی تصاویر کی تشہیر کو بلیک میلنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ خواتین صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو منظم ٹرولنگ، دھمکیوں، آن لائن بلیک میلنگ اور سائبر اسٹاکنگ جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔
ہیومن رائٹس سیل کے حکام نے مزید بتایا کہ ذاتی معلومات پھیلا کر خواتین کو نقصان پہنچانے کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ سال 2024 میں پاکستان میں موبائل انٹرنیٹ استعمال کرنے والی خواتین کی تعداد 80 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جس کے باعث ڈیجیٹل جینڈر بیسڈ وائلنس کے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔
حکام کے مطابق اے آئی سے تیار کردہ ڈیپ فیک ویڈیوز اور نفرت انگیز مواد خواتین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہو رہا ہے، جب کہ لیک اور ایڈیٹ شدہ تصاویر غیرت کے نام پر بلیک میلنگ کے لیے بروئے کار لائی جا رہی ہیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل جینڈر بیسڈ وائلنس کی رپورٹنگ کا موجودہ نظام اب بھی پیچیدہ اور مشکل ہے۔ کمیٹی کی رکن شائستہ پرویز نے کہا کہ انہوں نے ذاتی طور پر شکایات درج کروائیں لیکن سائبر کرائم ونگ کی جانب سے کوئی مؤثر ردعمل سامنے نہیں آیا۔ سینیٹر روبینہ قائم خانی نے بھی شکایات درج کرانے کے باوجود شنوائی نہ ہونے کی شکایت کی ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی اے اور دیگر متعلقہ ادارے اس حوالے سے کیا اقدامات کر رہے ہیں۔
کمیٹی کی رکن شاہدہ بیگم نے کہا کہ پاکستان میں موبائل فون کی رسائی اور سمز کے اجرا میں آسانی کے باعث مسائل میں اضافہ ہوا ہے، اس لیے ایک مضبوط اور مؤثر قانون کی ضرورت ہے۔ سیکریٹری ہیومن رائٹس نے کہا کہ بیشتر مسائل کا تعلق قوانین کے نفاذ سے ہے۔
چیئرپرسن نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن، ام لیلیٰ نے اجلاس کو بتایا کہ ان کے ادارے کے پاس آنے والے کیسز میں بڑی تعداد لڑکیوں اور خواتین کی ہے، جنہیں مکمل رازداری کے ساتھ نمٹایا جا رہا ہے۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x