تحریر: ڈاکٹر مشتاق احمد مزاری
جمہوریت محض ووٹ ڈالنے کا نام نہیں،
بلکہ ووٹ کے گنے جانے، سنے جانے اور مانے جانے کا نام ہے۔
جب ووٹ ڈال دیا جائے مگر وہ نمائندگی میں تبدیل نہ ہو سکے،
تو جمہوریت کی روح زخمی ہو جاتی ہے
اسی زخم کے ادراک نے مجھے انتخابی اصلاحات کے ایک ایسے قابلِ عمل فارمولے کی طرف متوجہ کیا جس میں
ہر ووٹ نہ صرف گنا جائے بلکہ وزن، وقار اور اسمبلی میں نمائندگی بھی حاصل کرے۔
اگر ووٹ امانت ہے تو پھر
اس کو اسمبلی نمائندگی بھی ملنی چاہیے
آئینی
تناظر میں دیکھا جائے تو
آئینِ پاکستان کی بنیاد عوامی حاکمیت پر رکھی گئی ہے
آرٹیکل 17 شہریوں کو سیاسی جماعت بنانے اور ان میں شمولیت کا حق دیتا ہے
آرٹیکل 51 قومی اسمبلی کی تشکیل کو عوامی نمائندگی سے مشروط کرتا ہے
آرٹیکل 106 صوبائی اسمبلیوں کے لیے یہی اصول دہراتا ہے
آرٹیکل 140-A مقامی حکومتوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی خودمختاری کی ضمانت دیتا ہے
ان تمام دفعات کی روح ایک ہی ہے:
اقتدارِ اعلیٰ عوام کی امانت ہے۔
مگر سوال یہ ہے
کیا ہمارا موجودہ انتخابی نظام واقعی ہر عوامی رائے کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچاتا ہے؟
مسئلے کی جڑ
براہِ راست طرزِ نمائندگی (First Past the Post) میں
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ:
لاکھوں ووٹ محض اس لیے ضائع ہو جاتے ہیں کہ وہ “اکثریت” میں تبدیل نہ ہو سکے
اسمبلی میں نشستیں تو بھر جاتی ہیں، مگر عوامی رائے کا بڑا حصہ باہر رہ جاتا ہے
یوں ایوان تو بنتا ہے،
مگر قوم پوری نمائندگی سے محروم رہتی ہے
یہ کیسی جمہوریت ہے کہ ہارنے والا ووٹ
ریاست کے حساب میں اور حق نمائندگی میں شامل ہی نہ ہو
مجوزہ آئینی فارمولا ایک متوازن راستہ
تمام فکری مباحث، آرا اور مشاورت کے بعد جو فارمولا سامنے آیا، اس کا خلاصہ یہ ہے
قومی، صوبائی اور مقامی اسمبلیوں کی کل نشستوں کا
50 فیصد نمائندے
براہِ راست ووٹوں کے ذریعے، یعنی زیادہ ووٹ لینے والے امیدواروں کی بنیاد پر منتخب ہوں
باقی 50 فیصد نشستیں
متناسب نمائندگی (Proportional Representation) کے اصول پر،
ہر سیاسی جماعت کو اس کے مجموعی حاصل کردہ ووٹوں کے تناسب سے دی جائیں
یہ نظام نہ مکمل براہِ راست ہے، نہ خالص متناسب
بلکہ جمہوریت کا ایک معتدل، منصفانہ اور پاکستانی مزاج سے ہم آہنگ ماڈل ہے
عملی شکل اس طرح ہو سکتی ہے
فرض کریں انتخابات میں
پانچ کروڑ ووٹرز نے ووٹ ڈالا
براہِ راست کامیاب امیدوار
دو کروڑ چالیس لاکھ ووٹ حاصل کرتے ہیں
باقی
دو کروڑ ساٹھ لاکھ ووٹ
نمائندگی سے محروم رہ جاتے ہیں
اب اگر ان باقی ووٹوں کو اسمبلی کی 50 فیصد متناسب نشستوں پر تقسیم کیا جائے
یوں ہر جماعت کو اتنی نشستیں ملیں گی جتنے ووٹ اس نے واقعی حاصل کیے اس طرح
کوئی ووٹ ضائع نہیں ہو گا کوئی رائے بے وزن نہیں ہو گی
یہی ہے جمہوریت کا اصل ہنر ہے
کہ ہر رائے دہندہ ووٹر بھی خود کو نظام میں دیکھے
جمہوریت مضبوطی ملے گی
سیاسی شمولیت بڑھے گی
چھوٹی جماعتیں اور علاقائی آوازیں سامنے آئیں گی
انتخابی نتائج عوامی رائے کا حقیقی عکس بنیں گے
جمہوری نظام پر اعتماد بحال ہوگا
آغاز کہاں سے ہو؟
آئین کے آرٹیکل 140-A کی روشنی میں
اس اصلاح کا آغاز بلدیاتی اور بنیادی جمہوریتوں سے کیا جانا چاہیے
کیونکہ
جو عمارت بنیاد سے مضبوط ہو
وہی طوفانوں میں کھڑی رہتی ہے
بلدیات سے صوبہ،
اور صوبہ سے مرکز تک
یہ اصلاحات جمہوریت کو ایک نیا اخلاقی اور آئینی وقار عطا کر سکتی ہیں
یہ فارمولا کسی جماعت کے حق یا مخالفت میں نہیں،
بلکہ ووٹ کے حق میں ہے۔
یہ اقتدار کی جنگ نہیں،
بلکہ اعتماد کی بحالی کی کوشش ہے
حکومتیں ووٹ سے بنتی ہیں
اور ووٹ کی حرمت سے بچتی ہیں
اگر پاکستان کو حقیقی جمہوری ریاست بنانا ہے
تو ہمیں ہر ووٹ کو
گننا بھی ہوگا، ماننا بھی ہوگا، اور نمائندگی بھی دینی ہوگی