ڈیجیٹل اسکرینز اور آنکھوں کی صحت
ڈیجیٹل دور میں موبائل فون، کمپیوٹر اور دیگر اسکرینز کا استعمال روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق طویل وقت تک اسکرین پر نظریں جمائے رکھنے سے آنکھوں میں جلن، خشکی، دھندلاہٹ، تھکن اور سر درد جیسی شکایات پیدا ہو سکتی ہیں۔ یہ مسائل صرف آنکھوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ نیند کی کمی، ذہنی دباؤ اور توجہ کی کمی کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔
پلک جھپکنے کی عادت
تحقیقات کے مطابق عام حالت میں ایک شخص فی منٹ تقریباً 22 بار پلک جھپکتا ہے، لیکن اسکرین استعمال کرتے وقت یہ شرح صرف 7 بار رہ جاتی ہے۔ پلک جھپکنے سے آنکھوں کی نمی برقرار رہتی ہے اور آکسیجن سمیت ضروری غذائی اجزاء آنکھوں تک پہنچتے ہیں۔ اگر خشکی کی شکایت بڑھے تو ڈاکٹر کے مشورے سے مصنوعی آنسو یا آنکھوں کے قطرے استعمال کرنے چاہییں۔
20-20-20 اصول
ماہرین کے مطابق ہر 20 منٹ بعد کم از کم 20 فٹ دور موجود کسی چیز کو 20 سیکنڈ تک دیکھنا چاہیے۔ یہ آسان طریقہ آنکھوں کے دباؤ کو نمایاں حد تک کم کرتا ہے۔
ڈیجیٹل سیٹ اپ میں احتیاط
اسکرین استعمال کرتے وقت موبائل یا لیپ ٹاپ کو 13 سے 20 انچ دور رکھنا چاہیے، جبکہ کمپیوٹر مانیٹر کم از کم 20 انچ کے فاصلے پر ہونا چاہیے۔
کمرے کی روشنی کے مطابق اسکرین کی برائٹنس ایڈجسٹ کریں۔
اینٹی گلیئر فلٹر یا اسکرین زاویہ تبدیل کریں۔
فونٹ بڑا رکھیں اور بیٹھنے کا درست انداز اپنائیں۔
کرسی ایسی ہو کہ کمر کو سہارا ملے اور اسکرین آنکھوں کی سطح سے کچھ نیچے ہو۔
باقاعدہ معائنہ ضروری
امریکن آپٹومیٹرک ایسوسی ایشن کے مطابق ہر بالغ فرد کو سال میں کم از کم ایک بار آنکھوں کا مکمل معائنہ ضرور کروانا چاہیے۔ بعض امراض ابتدائی مراحل میں واضح علامات ظاہر نہیں کرتے، اس لیے کسی بھی تبدیلی یا مستقل تکلیف کی صورت میں فوراً ماہر امراض چشم سے رجوع کرنا چاہیے۔