اسلام آباد ہائی کورٹ: مصالحتی مرکز کی بندش پر جسٹس محسن اختر کیانی کے اہم ریمارکس

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے دارالحکومت میں قائم مصالحتی مرکز (Mediation Center) کے غیر فعال ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایک نجی بینک سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران انہوں نے عدالتی نظام میں متبادل تنازعات کے حل (ADR) کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

مصالحت کے کلچر میں رکاوٹیں

جسٹس محسن اختر کیانی نے دورانِ سماعت ریمارکس دیے کہ:

  • عالمی رجحان: مصالحت کے ذریعے کیسز حل کرنے کا کلچر پوری دنیا میں رائج ہے، لیکن پاکستان میں اسے اپنانے میں ابھی وقت لگے گا۔
  • اسٹیک ہولڈرز کا اعتماد: اس نظام کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز اس بات پر مطمئن ہوں کہ کیسز عدالتوں کے باہر مصالحت کے ذریعے بھی حل ہو سکتے ہیں۔
  • ترجیحی مراحل: انہوں نے واضح کیا کہ اس کلچر کو فروغ دینے کے لیے سب سے پہلے وکلاء، پھر ججز اور آخر میں عوام کو اس بات پر قائل (Convince) ہونا پڑے گا کہ یہ طریقہ کار مؤثر ہے۔

جسٹس کیانی نے افسوس کا اظہار کیا کہ اسلام آباد میں جو مصالحتی مرکز بنایا گیا تھا، وہ اس وقت بند پڑا ہے، جس کی وجہ سے عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم کرنے کا ایک بہترین موقع ضائع ہو رہا ہے۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x