بھارت کے اقدامات سے پاکستان کی غذائی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے:

اسحاق ڈار
اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بھارت کے کشن گنگا اور رتلے ڈیم منصوبے سندھ طاس معاہدے کی تکنیکی خلاف ورزی ہیں بھارت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ بھارت پیشگی اطلاع کے بغیر دریاؤں میں پانی چھوڑ رہا ہے، جس سے خطے میں انسانی بحران پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
اسلام آباد میں غیر ملکی سفیروں کو بریفنگ دیتے ہوئے اسحاق ڈار نے بتایا کہ رواں سال دریائے چناب کے بہاؤ میں دومرتبہ تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن میں 30 اپریل سے 21 مئی اور 7 تا 15 دسمبر 2025 کے دوران شدید اتار چڑھاؤ آیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پیشگی اطلاع کے بغیر پانی چھوڑنے کے اقدامات جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کا حالیہ اقدام پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی واضح مثال ہے سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کا ضامن ہے۔ اقوام متحدہ کے خصوصی طریقہ کار میں بھارتی اقدامات پر تشویش ظاہر کی گئی ہے، اور معاہدے پر فریقین کا عمل درآمد لازمی ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے پاکستان کو سیلاب اور خشک سالی جیسے خطرات کا سامنا کرنا پڑا، بھارتی وزیر داخلہ نے معاہدے کی بحالی نہ کرنے اور اس پر عمل نہ کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ پانی روکنے کو جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔
اسحاق ڈار نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی ممل بحالی کے لیے اقدامات کرے ۔ نہوں نے کہا کہ تنازعہ کا حل معاہدے میں درج طریقہ کار کے مطابق ہونا چاہیے اور بھارت کے اقدامات سے پاکستان کی غذائی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x