اسلام آباد:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے بغیر لائسنس گاڑی چلانے پر گرفتاری سے متعلق درخواست کو ہدایات کے ساتھ نمٹا دیا۔
چیف جسٹس سرفراز احمد ڈوگر نے ہدایت کی کہ کسی بھی شہری کے خلاف فوری مقدمہ درج نہ کیا جائے، بلکہ اگر وہ موقع پر ڈرائیونگ لائسنس دکھانے میں ناکام رہے تو پہلے جرمانہ کیا جائے۔
غفلت یا حادثے کی صورت میں مقدمہ ممکن، عام شہری پر نہیں
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ “یہ بات واضح ہے کہ غفلت یا لاپرواہی سے ڈرائیونگ کرنے پر مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے۔
تاہم اگر کوئی شخص صرف بغیر لائسنس گاڑی چلا رہا ہو اور حادثہ پیش آجائے تو اس صورت میں دفعہ 302 (قتلِ عمد) بھی لگ سکتی ہے۔”
چیف جسٹس نے استفسار کیا:
“پاکستان کو بنے ہوئے 70 سال سے زائد ہو گئے ہیں، اور لوگوں کو اب تک یہ نہیں معلوم کہ لائسنس ساتھ رکھنا ضروری ہے؟ اگر آپ کے پاس لائسنس ہے تو اس کی کاپی دکھا دیں۔”
سی ٹی او کی وضاحت: ڈیجیٹل سسٹم متعارف کرانے کی کوشش
سماعت کے دوران چیف ٹریفک آفیسر (CTO) نے عدالت کو بتایا کہ ڈرائیونگ لائسنس میں سکیورٹی فیچرز میں اضافہ کیا گیا ہے تاکہ جعلی یا ٹیمپرڈ لائسنس کی روک تھام کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ “بغیر لائسنس شہریوں کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔”
عدالت نے ریمارکس دیے کہ اب تو نادرا ایپ کے ذریعے شناختی کارڈ اور لائسنس کی آن لائن تصدیق ممکن ہے۔
جس پر سی ٹی او نے کہا کہ “ہم نادرا ڈیٹا بیس سے لنک کر کے اس نظام کو ڈیجیٹل کرنے پر کام کر رہے ہیں۔”
عدالت کی ہدایت: جرمانے کا نظام مؤثر بنایا جائے
چیف جسٹس نے کہا کہ اگر بغیر لائسنس ڈرائیونگ پر مقدمات درج کیے گئے تو شہریوں پر کریمنل ریکارڈ کا داغ (stigma) لگ جائے گا۔
ان کا کہنا تھا:
“ایسے شہریوں کو مقدمات میں گھسیٹنے کے بجائے پہلے جرمانہ کیا جائے، اور اگر وہ دوبارہ خلاف ورزی کریں تو سخت کارروائی کی جائے۔”
عدالت نے مزید کہا کہ “جب کسی کو جرمانہ کیا جائے گا تو وہ ریکارڈ پر آ جائے گا، اس سے مستقبل میں بہتر نگرانی ممکن ہو گی۔”