اسلام آباد۔۔۔اسلام آباد میں درختوں کی بے دریغ کٹائی کا معاملہ قومی اسمبلی میں پہنچ گیا۔ رکنِ قومی اسمبلی ریاض فتیانہ کے توجہ دلاؤ نوٹس پر وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے ایوان کو بتایا کہ وفاقی دارالحکومت میں صرف پیپر ملبری کے درخت کاٹے گئے ہیں، کسی اور قسم کے درخت نہیں کاٹے گئے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ پیپر ملبری کے کاٹے گئے درختوں کے بدلے چار گنا زیادہ درخت لگائے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق اب تک 29 ہزار 215 درخت کاٹے گئے جبکہ 40 ہزار سے زائد درخت لگائے جا چکے ہیں، اور مارچ میں انہی مقامات پر مزید 60 ہزار درخت لگائے جائیں گے۔ طلال چوہدری نے کہا کہ وہ پوری ذمہ داری سے کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ کوئی اور درخت نہیں کاٹا گیا اور اس معاملے پر کھلی سماعت کے لیے بھی تیار ہیں۔ انہوں نے چیئرمین سی ڈی اے پر تنقید کے بجائے اچھے افسران کی تعریف کرنے کی بھی بات کی۔
ریاض فتیانہ نے سوال اٹھایا کہ کیا درخت کاٹنے سے پہلے ماحولیاتی تحفظ کی اتھارٹی سے اجازت نامہ لیا گیا تھا، تاہم وزیر مملکت نے اس سوال کا براہ راست جواب دینے سے گریز کیا۔
پیپلز پارٹی کی رکن شرمیلا فاروقی نے کہا کہ دنیا میں کہیں بھی اس پیمانے پر درخت نہیں کاٹے جاتے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اچانک حکومت کو پیپر ملبری سے پولن الرجی بڑھنے کا خیال کیسے آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپر ملبری کے ساتھ دیگر درخت بھی کاٹے گئے اور اس طرح پورا گرین بیلٹ ختم کرنا کوئی حل نہیں، چار درخت لگانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا کیونکہ انہیں بڑا ہونے میں وقت لگے گا۔
دوسری جانب رکن اسمبلی اقبال آفریدی نے تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے افراد کو آئی ڈی پیز کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ شدید سردی کے باعث بچوں کی اموات ہو چکی ہیں، متاثرہ افراد کو خوراک اور رہائش سمیت تمام سہولتیں فراہم کی جائیں اور دو ماہ کے اندر ان کی واپسی کو یقینی بنایا جائے، بصورت دیگر احتجاج کیا جائے گا۔
پیپلز پارٹی کے رہنما نبیل گبول نے کراچی میں طویل لوڈشیڈنگ پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شہر میں سولہ سولہ گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے لیکن ایوان میں کوئی وزیر یا حکومتی رکن موجود نہیں جو ان کی بات سنے۔