لاہور ہائی کورٹ کا پنجاب حکومت کو بڑا دھچکا: جائیدادوں سے متعلق نیا آرڈیننس معطل

لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت کے پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف امووایبل پراپرٹی آرڈیننس 2025 کے نفاذ کو عبوری طور پر معطل کر دیا ہے۔ یہ آرڈیننس وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے منظور کیا گیا تھا، جس کے تحت جائیداد کے تنازعات کے فیصلے کا اختیار سول عدالتوں کے بجائے ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں قائم کمیٹیوں کو دیا گیا تھا۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے عابدہ پروین اور دیگر کی درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے یہ حکم جاری کیا۔ عدالت نے نہ صرف قانون کو معطل کیا بلکہ اس کے تحت اب تک کیے گئے جائیدادوں کے قبضے سے متعلق تمام فیصلوں کو بھی روک دیا ہے۔

چیف جسٹس کے سخت ریمارکس

سماعت کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اس قانون پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے:

  • جاتی امرا کی مثال: انہوں نے کہا کہ اگر یہ قانون برقرار رہا تو “جاتی امرا” بھی آدھے گھنٹے میں خالی کرایا جا سکتا ہے، بظاہر کچھ لوگ تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں۔
  • عدالتی بالادستی: چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ جب معاملہ سول عدالت میں ہو تو ایک ریونیو افسر کس طرح جائیداد کا قبضہ منتقل کر سکتا ہے؟ یہ قانون عدالتی نظام اور شہری حقوق کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔
  • اپیل کا حق: عدالت نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ اس قانون میں متاثرہ شہری کو اپیل کا حق تک نہیں دیا گیا، یہاں تک کہ ہائی کورٹ کے حکمِ امتناع دینے کے اختیار کو بھی محدود کرنے کی کوشش کی گئی۔

پسِ منظر

یہ آرڈیننس 31 اکتوبر 2024 کو منظور کیا گیا تھا، جس کا مقصد جائیداد کے تنازعات کو 90 دن میں نمٹانا بتایا گیا تھا۔ تاہم، قانونی ماہرین اور عدالت نے اسے آئین اور عدالتی دائرہ اختیار میں مداخلت قرار دیا ہے۔ عدالت نے اب اس معاملے کی مزید سماعت کے لیے فل بینچ تشکیل دینے کا اعلان کر دیا ہے۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x