ناسا کی تاریخی لائبریری کی بندش: ہزاروں نایاب سائنسی کتب اور دستاویزات ضائع ہونے کا خدشہ

ناسا کے میری لینڈ میں واقع گاڈارڈ اسپیس فلائٹ سینٹر کی سب سے بڑی تحقیقی لائبریری کو بند کرنے کے فیصلے نے سائنسی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جس کے نتیجے میں ہوا بازی اور خلانوردی سے متعلق ہزاروں نایاب دستاویزات کے ضائع ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس لائبریری میں ایسی ہزاروں کتب اور تحقیقی جرائد موجود ہیں جو اب تک ڈیجیٹلائز نہیں کیے جا سکے اور دنیا کے کسی دوسرے مرکز میں دستیاب نہیں ہیں۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ناسا انتظامیہ آئندہ 60 دنوں میں لائبریری کے کیٹلاگ کا جائزہ لے گی، جس کے بعد طے کیا جائے گا کہ کون سا مواد محفوظ کرنا ہے اور کسے تلف کر دیا جائے گا۔ اگرچہ ناسا کی ترجمان بیتھنی اسٹیونز نے اس اقدام کو لائبریری کا انضمام قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ فیصلہ سیاسی تبدیلیوں سے قبل ہی کر لیا گیا تھا، تاہم ماہرین اسے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے متوقع بجٹ کٹوتیوں اور ملازمین کی برطرفیوں کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ 1959 میں قائم ہونے والا یہ مرکز ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ جیسے بڑے منصوبوں کی نگرانی کر چکا ہے اور اس کی لائبریری خلائی تحقیق کا ایک قیمتی اثاثہ سمجھی جاتی ہے۔ دوسری جانب ناسا کے نومنتخب سربراہ جیرڈ آئزک مین نے یقین دہانی کروائی ہے کہ تمام اہم ریکارڈز کو ڈیجیٹلائز کیا جائے گا یا محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے گا تاکہ انسانی تاریخ کے اس عظیم سائنسی ورثے کو بچایا جا سکے۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x