ذہنی و نفسیاتی تشدد کو خلع کی بنیاد قرار دینے والا سپریم کورٹ کورٹ کا فیصلہ پدرشاہی رویوں کے خلاف سنگ میل قرار

اسلام آباد (ویب ڈیسک) — قومی کمیشن برائے حقوقِ نسواں (NCSW) نے سپریم کورٹ کی جج عائشہ اے ملک کے مسلم شادیوں کی تحلیل کے قانون مجریہ 1939 کے تحت دیے گئے حالیہ فیصلے کو ’پدرشاہی عدالتی رویوں کے خلاف سنگِ میل‘ قرار دیا ہے۔
جج عائشہ ملک نے اپنے فیصلے میں کہا کہ “شادی کے استحکام کے نام پر عورت کو ذہنی اذیت اور نفسیاتی جبر میں رکھنا شریعت اور قانون دونوں کے منافی ہے۔”
انہوں نے اس مقدمے میں واضح کیا کہ ’ظلم‘ کا مفہوم صرف جسمانی تشدد تک محدود نہیں بلکہ ہر وہ عمل جو عورت کی عزت، وقار یا ذہنی سکون کو مجروح کرے، شادی کے خاتمے کی قانونی وجہ بن سکتا ہے۔ فیصلے میں خاندانی عدالتوں کے پدرشاہی رویوں پر بھی تنقید کی گئی ہے، جن میں خواتین کے جذبات اور ذہنی صحت کو معمولی سمجھنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ جج عائشہ ملک نے کہا کہ قانون کو عورت کے وقار اور مساوی حقِ عدل کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
کمیشن کی چیئرپرسن امِ لیلیٰ اظہر نے ایک بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ خواتین کی خود ارادیت، ذہنی سلامتی اور ازدواجی تشدد کے دائرہ کار سے متعلق ایک تاریخی پیش رفت ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف قانونی بلکہ سماجی طور پر بھی ایک بڑی تبدیلی کی بنیاد رکھتا ہے، کیونکہ اس میں عدالت نے پہلی بار ذہنی اور جذباتی تشدد کو شادی کے خاتمے کی قانونی بنیاد تسلیم کیا ہے۔
NCSW کی سربراہ امِ لیلیٰ اظہر نے مزید کہا کہ اس فیصلے نے خواتین کے قانونی حقوق کو مضبوط اور عدالتی زبان میں صنفی امتیاز کے خاتمے کی راہ ہموار کی ہے۔ ان کے مطابق “عدلیہ کے فیصلے میں عورت کی آواز کو تسلیم کرنا دراصل معاشرتی انصاف کی سمت میں اہم موڑ ہے۔”
یہ مقدمہ ایک ایسی خاتون کی طرف سے دائر کیا گیا تھا جس نے موقف اختیار کیا کہ اس کا شوہر مسلسل جذباتی تشدد اور مالی غفلت کا مرتکب رہا، جس سے ازدواجی زندگی ناقابلِ برداشت ہو گئی۔ عدالت نے مسلم شادیوں کی تحلیل کا قانون 1939 کا حوالہ دیتے ہوئے فیصلہ دیا کہ ایسے حالات میں عورت کو طلاقِ تفویض یا فسخِ نکاح کا حق حاصل ہے۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x