کراچی، 27 اکتوبر 2025: جِلد کے مرض فنگل انفیکشن کے علاج کی دوا ایجاد کرلی گئی۔ سرد موسم میں جِلد کے امراض میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے جس کی وجہ خشک موسم بتائی جاتی ہے۔
جِلدی امراض کے ماہر ڈاکٹر شمائل ضیاء نے بتایا ہے کہ پاکستان میں پہلی بار فنگل انفیکشن کے علاج کے لیے ایک نئی دوا تیار کر لی گئی ہے۔ یہ دوا دو مختلف دواؤں کے امتزاج سے تیار کی گئی ہے اور فنگل انفیکشن کے علاج میں مؤثر ثابت ہوگی۔
ڈاکٹر شمائل ضیاء کے مطابق سردیوں اور گرمیوں کے موسم میں فنگل انفیکشن کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔ سرد موسم میں جلد خشک ہونے کی وجہ سے خارش، کریکس اور دیگر مسائل پیدا ہوتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ جسم کو موسچرائز رکھا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ فنگل انفیکشن پاکستان میں صحتِ عامہ کا ایک سنگین مسئلہ ہے، جو فنگس کے باعث ہوتا ہے۔ یہ مرض عموماً ناخنوں، بالوں، منہ یا جسم کے مختلف حصوں کو متاثر کرتا ہے۔ متاثرہ جگہ پر سرخ گول نشانات اور خارش پیدا ہوتی ہے، جو ایک فرد سے دوسرے تک منتقل ہوسکتی ہے۔
ان کے مطابق زیادہ پسینہ آنا، صفائی کا خیال نہ رکھنا، مدافعتی نظام کی کمزوری، اور ذیابطیس کے مریض ہونا اس مرض کے پھیلاؤ کے بڑے عوامل ہیں۔
ڈاکٹر شمائل ضیاء نے مزید کہا کہ سرد موسم میں جلد کی خشکی سے ہاتھوں، پیروں اور ایڑیوں میں کریکس بننا عام ہے، جس کے علاج میں ناریل کا تیل مؤثر ثابت ہوتا ہے۔
انہوں نے خواتین کو مشورہ دیا کہ رنگت نکھارنے کے لیے استعمال کی جانے والی مارکیٹ کی کیمیکل کریمز سے پرہیز کریں کیونکہ ان میں مرکری اور آرسینک جیسے مضر اجزا شامل ہوتے ہیں جو جلد کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ ایسی کریمز کے استعمال سے چہرے پر چھائیاں بن جاتی ہیں اور طویل عرصے تک استعمال سے جلدی کینسر سمیت دیگر امراض بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔