برطانیہ میں صحت کے ماہرین نے نوجوانوں میں نکوٹین پاؤچز (Nicotine Pouches) کی بڑھتی ہوئی مقبولیت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق، ملک میں 14 سے 17 سال کی عمر کے ہر آٹھ میں سے ایک نوجوان نے ان پاؤچز کا استعمال کیا ہے، جس سے نئی نسل میں نکوٹین کی لت پڑنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
نکوٹین پاؤچز یا ‘سنس’ (Snus) کیا ہیں؟
یہ چھوٹے ٹی بیگز نما پاؤچز ہوتے ہیں جنہیں مسوڑھوں اور ہونٹ کے درمیان رکھ کر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ مختلف دلکش ذائقوں میں دستیاب ہوتے ہیں اور خون میں نکوٹین خارج کر کے نشہ فراہم کرتے ہیں۔ اگرچہ ان سے سگریٹ کی طرح کینسر کا براہ راست خطرہ تو نہیں جڑا، مگر ماہرین کے مطابق یہ منہ اور دانتوں کی بیماریوں اور شدید نشے کی لت کا باعث بن سکتے ہیں۔
سروے کے ہوش ربا حقائق:
- ڈیلٹا پول (Deltapoll) کے سروے کے مطابق، 13 فیصد نوجوان ان پاؤچز کو آزما چکے ہیں۔
- استعمال کرنے والوں میں سے 30 فیصد ہفتے میں کم از کم ایک بار اسے باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں۔
- زیادہ تر نوجوان یہ پاؤچز دوستوں سے لیتے ہیں یا دکانوں سے باآسانی خرید لیتے ہیں کیونکہ فی الحال ان کی فروخت پر عمر کی کوئی قانونی حد مقرر نہیں۔
حکومت کا مجوزہ کریک ڈاؤن
برطانوی حکومت اپنے نئے ٹوبیکو اور ویپس بل کے ذریعے ان مصنوعات پر قابو پانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ مجوزہ اقدامات میں شامل ہیں:
- 18 سال سے کم عمر افراد کو فروخت پر مکمل پابندی۔
- پیکجنگ کو سادہ بنانا اور دلکش ذائقوں کو محدود کرنا۔
- پاؤچز میں نکوٹین کی مقدار کم کرنا تاکہ یہ بچوں کے لیے کم پرکشش رہیں۔
سابق وزیرِ صحت اسٹیو برائن کا کہنا ہے کہ تمباکو بنانے والی بڑی کمپنیاں سوشل میڈیا اور میوزک فیسٹیولز کے ذریعے جان بوجھ کر نوجوان نسل کو ہدف بنا رہی ہیں تاکہ انہیں نکوٹین کا عادی بنا کر اپنا کاروبار چمکایا جا سکے۔