کراچی: پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے کہا ہے کہ پارٹی *18ویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی کسی کوشش کو قبول نہیں کرے گی، کیونکہ یہ ترمیم *تمام جماعتوں کے اتفاق رائے سے آئین کا حصہ بنی تھی۔
انہوں نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کا تاحال کوئی حتمی ڈرافٹ سامنے نہیں آیا، اور نہ ہی حکومت نے یہ مسودہ پیپلز پارٹی کے حوالے کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ “وزیراعظم کی سربراہی میں حکومتی وفد نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے صرف چند نکات پر بات کی تھی، لیکن مکمل ڈرافٹ تاحال منظر عام پر نہیں آیا۔”
پارٹی سی ای سی 6 نومبر کو فیصلہ کرے گی
نثار کھوڑو نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کا اجلاس 6 نومبر کو ہوگا، جہاں 27ویں ترمیم سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ “عوام کو بھی اس ترمیم کے بارے میں آگاہ کیا جائے، یہ چھپن چھپائی کا کھیل بند ہونا چاہیے۔”
صدارتی نظام اور نئے صوبوں کی باتیں بے بنیاد
پیپلز پارٹی رہنما نے واضح کیا کہ “نہ کوئی نیا صوبہ بننے جا رہا ہے، نہ صدارتی نظام کی آئین میں گنجائش موجود ہے۔”
انہوں نے کہا کہ “صدارتی نظام کی باتیں تو کی جا رہی ہیں مگر آئی ایس پی آر پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ فوج کو سیاست سے دور رکھا جائے۔”
کاشتکاروں کے مسائل اور پیڈی کی امدادی قیمت کا مطالبہ
نثار کھوڑو نے کہا کہ سندھ کے کاشتکار دو سال سے مشکلات کا شکار ہیں، کیونکہ دھان اور چاول کی امدادی قیمت مقرر نہیں کی گئی۔
ان کے مطابق، “وفاقی حکومت کو چاہیے کہ کسانوں کے احتجاج کا نوٹس لے اور پیڈی کی مناسب قیمت مقرر کرے۔”
انہوں نے بتایا کہ دھان کی قیمت فی من 3200 روپے سے کم ہو کر 2200 روپے رہ گئی ہے، جو کاشتکاروں کے ساتھ زیادتی ہے۔
مزید کہا کہ “حکومت ایک طرف ایکسپورٹ بڑھانے کی بات کرتی ہے، دوسری طرف خام مال فراہم کرنے والوں کا معاشی قتل کر رہی ہے۔”
زراعت کے بحران پر تشویش
پیپلز پارٹی رہنما کے مطابق، ملک میں زرعی ترقی کی شرح مائنس تین فیصد پر ہے اور فرٹیلائزرز مہنگے داموں فروخت ہو رہے ہیں — “ڈی اے پی کھاد 14 ہزار روپے میں دستیاب ہے۔”
انہوں نے زور دیا کہ ماضی میں فعال ادارہ رائس ایکسپورٹ کارپوریشن (RECP) ختم کر دیا گیا، جس سے کسان شدید متاثر ہوئے۔
“ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ آر ای سی پی کو فوری بحال کیا جائے، تاکہ کسانوں کو ان کی محنت کا درست معاوضہ مل سکے،” نثار کھوڑو نے کہا۔
سندھ حکومت کی کارکردگی اور پی اے سی رپورٹ
انہوں نے بتایا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) نے ایک سال میں 26 ارب روپے کی ریکوری کرکے سندھ کے خزانے میں جمع کرائی ہے۔
“ہم نے ہمیشہ شفافیت اور احتساب پر یقین رکھا ہے،” نثار کھوڑو نے دعویٰ کیا۔